چھریرے لمبوترے بدن پہ کالی وردی سجتی بہت تھی مگر ودری کے اپنے تقاضے تھے شگفتہ دھن کی اپنی سخنوری تھی نہ یہ سب کچھ کالی وردی نے قبول کیا نہ خنک دھن نے اس کو اہمیت دی۔۔کالی وردی رزق کا زریعہ تھا بس یہی تعلق رہا اس بنجارے نے کبھی اس وردی کو سٹیٹس نہیں سمجھا۔کالی وردی اپنے ساتھ اجنبیت لاتی ہے اور اچھے خاصے انسان کے تعلق کو معاشرے کے غیر انسانوں سے جوڑتا ہے کرائم کی اس دنیا میں کالی وردی ہی کرائم کا علاج ہے اورشریفوں کی لاج بھی ہے لیکن اس کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ بسا اوقات ہر کوئی کالی وردی والے کو کریمینل نظر آتا ہے اس لیے کالی وردی والا اپنی الگ ہی دنیا بساتا ہے۔۔یہاں جس کالی وردی کا ذکر ہورہا ہے وہ وردی والے کے ہاں سے کوئی پزیرائی نہ لے سکے۔دنیا نے کالی وردی والیکو کبھی بھی کالی وردی میں محسوس نہیں کیا۔وہ ان کی نظر میں بے باک شاعر ادیب رہے،سنخنور رہے،شگفتہ مزاج رہے،بزلہ سنج اور محفلوں کی جان رہے،منفرد انداز کے کلاکار رہے۔کالی وردی نے سٹار ساتھ لاۓ۔۔ عہدہ اور چمکتے پہیوں والی کرسی ساتھ لاۓ دھن دولت لائی۔لیکن اپنی اہمیت اور من موہن نہ منوا سکے۔آج کالی وردی اتری تو ہیرا وہی بغیر کالی وردی کے سٹیٹس والا۔۔
شفی شفا فن کی دنیا میں جیۓ۔فین پیدا کیے اور محفلوں کی جان رہے۔رنگین مزاجی اس کی پہچان بنی۔ان پہ نظر پڑتے ہی مسکراہٹ ہر چہرے پہ پھیل جاتی۔اس کی سنجیدگی نرا مذق ہوتی انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے بھر پور فایدہ اٹھایا اگر وہ پیشہ ور پولیس مین کے روپ میں اپنے آپ کو ڈھال دیتا تو شاید ان کی خداداد صلاحیتیں بے کار ہوتیں۔شفی شفا پولیس میں بھی ایک عہد کا نام تھا۔اس نے شاید کسی کو ناراض کیا ہو ممکن ہے کوئی شاید اس کی بزلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کو پسند نہ کیا ہو یہ اس کی دیدہ دلیری نہیں نیچر کے ہاتھوں مجبوری کہی جا سکتی ہے۔فطرت بدلتی نہیں عادت کو اس لیے دوسری فطرت کہتے ہیں ان کے قہقہوں نے اپنے ارد گرد روشنی کا ایک ہالہ ڈیزائن کیا تھا چند ہی لوگ ہوں جو ان کو عہدے کے لحاظ پکارتے ہوں باقیوں کے نزدیک اس کا عہدہ بہت چھوثا تھاوہ سدا بہار تھا اس لیے خزان کی جھنجھٹ سے آزاد تھا۔ہر ایک سے بے باکانہ ملتا اس لیے ملن کا یہ سٹائل اس کی پہچان بنی۔وہ حاضر جواب اور ٹھیک سے مقرر بھی رہے۔اس کے کئی جملے ضرب المثل ہیں۔شفی شفا صابر،معاملہ فہم،مصلحت پسند رہے اس لیے غیر متنازعہ رہے انھوں نے کالی وردی کی بھی لاج رکھی۔بڑی جاندار اورشاندار رہے۔۔ماتحت ان کو افسر نہ سمجھے یہی بڑائی ہے۔انسان عارضی چمک دمک کو اہمیت نہ دے۔بہت سوں کو پتہ بھی نہ تھا کہ شفی شفا کب ایس پی بنے اور اب شاید ان کی سبکدوشی بھی ان کی شخصیت پہ اثر انداز نہ ہو ان سیپیار کرنے والے بے لوث ہیں۔ان کا احترام کرنے والے عہدے کا نہیں ان کا احترام کرتے تھے۔شفی شفا میرے کلاس فیلو رہے ہیں ان کا پچپنا مجھے یاد ہے وہی سدا بہار سا کچھ۔۔
اب بھی مجھے لگتا ہے کہ ان کی سبکدوشی کسی عہدے سے نہیں جو اس پہ اثر انداز ہو۔اقبال نے کہا تھا۔۔۔
مقام بندگی دے کر نہ ہو شان خداوندی۔۔۔۔۔یہی مقام بندگی اصل بڑائی ہے۔۔۔یہ شعر تمہاری مسکراہٹ کی نذر ہے دوست۔۔۔۔
آدھا یہاں آدھا ہے کسی اور جگہ پر۔۔۔دل پھر بھی زیادہ ہے کسی اور جگہ پر۔۔۔
ہے دیدہ پر شوق نظأروں میں کہیں گم۔۔۔
لیکن دل سادہ ہے کسی اور جگہ پر۔۔۔
سلامت رہیں
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



