یہ یقینا ہماری ناشکریاں اور سخت کوتاہیاں ہوں گی کہ ہم ہر لحاظ سے ایک عظیم ملک میں رہتے ہوۓ بھی بے چین ہیں ۔ہر کوٸی پریشان ہے، معترض ہے، مایوس ہے ۔شہری مزدور بے چین ہے۔۔ طالب علم مایوس ہے۔۔۔ انتظامیہ بے سکون ہے۔۔۔ مقنیہ ٹامک ٹوٸیاں کھارہا ہے۔۔۔ والدین کو اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔۔۔ عہدے دار کو اپنے عہدے کی سلامتی پر یقین نہیں ۔۔۔ایسا کیوں ہے ؟۔۔ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے ۔۔۔۔لازم ہے شکر کی کمی ہے ۔مخلص قیادت کی کمی ہے۔۔۔ امانت دار ذمہ دار کی کمی ہے۔۔۔ نیتوں میں فتور ہے۔۔۔ اس مٹی سے محبت کا فقدان ہے ۔۔۔قربانی کا جذبہ کوٸی نہیں ۔یہ المیہ ہے ۔۔آۓ روز بے چینیاں بڑھ رہی ہیں استاد کلاس روم چھوڑ کر سڑکوں میں ہے ۔۔۔صحافی کی جیب خالی ہے۔ لہذا قلم چھوڑکر گھر جا بیٹھا ہے۔۔ مزدور کڑھ رہا ہے ۔۔۔۔طالب علم کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہے ۔پنجاب کے وزیر اعلی کی تقریر سننے کو ملتی ہے کہتا ہے کہ ایک ایسے تعلیمی ادارے میں جانے کا اتفاق ہوا جس نے قوم کو بڑے بڑے ہیروز دیۓ لیکن اب وہاں کے اساتذہ ہاتھوں میں ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کوٸ پڑھاٸی نہیں ہو رہی اساتذہ سرجھکا کے سمارٹ فون پہ لگے ہوۓ ہیں ۔یہ سکول ہی بند کر دیۓ جاٸیں ۔ان کا غصہ پنشن اصلاحات اور سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کی صورت میں سامنے آرہا ہے ۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے سکریٹری تعلیم جو بڑے فعال ثابت ہوۓ ہیں انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ پیشہ ور اساتذہ اپنے اداروں کی صفاٸی ستھراٸی کرتے ہوۓ عار محسوس نہیں کرتے آوکہ اپنے اداروں کی خود صفاٸی کریں ۔۔اساتذہ اب بھی ان پہ معترض ہیں کہ انہوں نے اساتذہ کے ہاتھ میں چنور تھما دیا۔۔۔ بات اخلاص کی تھی لیکن ہم نے توہین سمجھا ۔آج حکومت کی طرف سے وثوق سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ پنشن قومی خزانے پر بوجھ ہے لیکن اشرافیہ مراعات اور پنشن لیتا رہے یہ بوجھ نہیں بس کہیں استاذ ،کلرک، پٹھواری ،کلاس فور، لاٸن مین وغیرہ کا پنشن قومی خزانے پر بوجھ ہے ۔اشرافیہ خواہ اس کا سکیل سولہ ہی کیوں نہ ہو اس کی لاکھوں کی گاڑی مفت بجلی مفت پٹرول ، سرکاری گھر اور پنشن قومی خزانے پر بوجھ نہیں محکمہ تعلیم کے گریٹ اکیس کے آفیسر کی تنخواہ قومی خزانے پر بوجھ ہے سنیٹر جو پانچ سال کے لیے سینٹ میں آ کر عیاشیاں کرے اس کی کارکردگی سے قوم کو کوٸی فاٸدہ نہ ہو اس کا ساری عمرکی پنشن قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے محکمہ صحت کا کلاس فور جس کو چند ہزار کی پنشن ملے قومی خزانے پر بوجھ ہے ۔سوال یہ ہے کہ قومی خزانہ ہے کیا یہ کس لیے یے ۔سڑک بنانے پہ قومی خزانے پہ بوجھ ہوتاہے بجلی گھر بنانے سے قومی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے ملازمین کو تنخواہ دینے سے ملازمیں پر بوجھ ہوتا ہے پنشن دینے سے قومی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے۔سبسیڈی اور کرایوں میں چھوٹ دینے سے قومی خزانے پر بوجھ ہوتا ہے ۔۔ اب یہ خزانہ ہے کس لیے ۔۔ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کے ٹیکس کی رقم ان پر خرچ ہوتا ہے ان کو بنیادی سہولیات میسر ہیں ہمارے ہاں یہ ٹیکس کی رقم کہاں جاتی ہے ۔کیا یہ خزانے میں نہیں جاتی ۔۔۔کیا ہمارے پاس ریوینیو کے کوٸی زراٸع نہیں ۔۔ہمارے سکولوں میں چند ہزار کا پرائیویٹ فنڈ ہوتا تھا ۔۔اس پر دو چار ہزار کا منافع اتا
تھا اس سال حکم آیا یہ ریوینو ہے حکومت کے خزانے میں جمع کرو ہم نے بچوں کے فنڈ کا منافع جو میرے سکول کا صرف چھ ہزار بنا اس کو حکومت کے ” خزانے “ میں جمع کیا ۔۔مسلم امہ کے دور زرین میں ہم نے سنا تھا کہ قومی خزانہ قوم کی امانت ہوتی ہے وہ شاید کوٸی اور طرح کا خزانہ تھا یا خزانے کے امین کوٸی ماوراٸی مخلوق تھے ۔۔ہمارے ہاں کی یہ ساری بے چینیاں شاید ہماری نا شکریاں ہیں ۔۔ہم دنیا کی دوسری قوموں اور ملکوں کی حالت زار کا اندازہ کرتے ہیں تو کچھ کہتے ہوۓ سہم جاتے ہیں ۔ہمارے سامنے فلسطین ہے چیچنیا بوزنیا ہے عراقی شام ہے کشمیر ہے افعانستان تھا قومیں کس عذاب سے گزریں اور گزر رہی ہیں ۔یا اللہ ہمارے اندر کی بے چینیاں کس کی کارستانیاں ہیں ۔ہم کشکول اٹھاتے ہیں ہم سر جھکاتے ہیں ہم میں مایوسیاں پھیلتی ہیں ۔ہم کرپشن کرکے پھر یوم بد عنوانی ” کرپشن ڈے “ مناتے ہیں۔پروردگار کیا ملک ایسا ہوتا ہے کیا لیڈرشپ ایسی ہوتی ہے پروردگار تو نے قران عظیم الشان میں قریشی پر اپنے احسانات میں امن اور پھر خوشحالی کا ذکر فرمایا ہے ۔۔ہمیں بھی دونوں کی ضروت ہے۔۔ہمیں امن اور خوشحالی عطا فرما۔۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


