ایک چٹ پٹی خبر ہے جر منی کے شہر ہیم برگ میں واقع یو نیور سٹی آف فائن آرٹس نے بیکار فنڈ قائم کیا ہے اس کے تحت 3اُمید واروں کو 1900ڈالر اس شرط پر ملینگے کہ وہ بے کار بیٹھنے کا انو کھا اور نیا پرا جیکٹ پیش کرینگے پھر اس پرا جیکٹ کو مکمل کر کے اپنی کا ر گذاری کی با قاعدہ رپورٹ مر تب کر کے دینگے ظاہر ہے کہ رپورٹ بیکاری کے دن گذر نے کے بعد مرتب کرینگے خبر کو پڑھ کر سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ پر اجیکٹ اور فنڈ پا کستا نیوں کے لئے ڈیزا ئن کیا گیا ہے لیکن دعوت جرمن اُمید واروں کو دی جا رہی ہے کیا یہ کھلا تضا د نہیں؟ جر منی میں کسی کو بیکار بننے اور بیکار رہنے کے تجربے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ مگر خبر دلچسپ ہے یو نیور سٹی آف فائن آر ٹس میں ا س پرو گرام کے سر براہ پرو فیسر فری ڈرک وارن بوریس (Federek Warn Boris) کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے اچھوتا پرا جیکٹ ثا بت ہو گا جس میں کچھ نہ کرنے کو بھی ”سر گرمی“ کا درجہ دیا گیا ہے ایک امید وار کہتا ہے کہ میں مخصوص مد ت تک اپنی جگہ سے نہیں ہلوں گا اور مسلسل سا کن و جا مد رہو نگا تو یہ اچھا خیال ہے اگر دوسرا اُمید وار کہے کہ میں مخصوص مد ت کے لئے سوچنا اور خیال دوڑا نا بھی بند کرونگا تو یہ مزید اچھا منصو بہ ہو گا پرا جیکٹ کی شرائط میں بیکاری کا طریقہ اور بیکاری کی مدت کا تعین اُمید وار کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے اگر ایک امید وار کہتا ہے کہ وہ سوئے گا نہیں تو یہ مختصر دورانیے کا منصو بہ ہو گا اگر دوسرا شخص کہتا ہے کہ وہ بازار نہیں جا ئے گا تو لمبے دورانیے کا ہو سکتا ہے ہمارے حلقہ احباب میں جو شاہ صا حب ہیں وہ قصے کہا نیاں بہت سنا تے ہیں ایک باد شاہ تھا اُس کو انو کھے اور اچھو تے خیا لا ت آتے تھے ایک دن اس نے وزیر خا ص سے کہا جاؤ دومستند بے غیرت پکڑ و اور در بار میں حا ضر کرو وزیر با ہر نکلا گھومتا رہا ایک جگہ اس کو خوبصورت نو جوان ملا جو بن ٹھن کر پھول لیکر جلدی جلدی جارہا تھا وزیر نے اُن سے پو چھا کہاں جارہے ہو! نو جوان نے کہا پچھلے سال میری بیوی ایک لڑ کے کو پسند کر کے اس کے ساتھ بھا گ گئی تھی آج معلوم ہوا کہ اُس کا بیٹا ہوا ہے میں اس کو مبارک باد دینے جا رہا ہوں وزیر نے کہا تمہیں با د شاہ نے بلا یا ہے پہلے دربار میں حا ضری دو پھر مبارک دینے کے لئے جا ؤ نو جوان راضی ہوا وزیر اس کو لیکر در بار میں آگیا با دشاہ نے وزیرسے کہا میں نے دو بندے لانے کا حکم دیا تھا تم ایک لے آئے ہو وزیر نے باد شاہ نے کہا باد شاہ سلا مت تم اس کی روداد سنو اگر یہ دو بندوں کے برابر نہ ہو اتو مجھے سزادو، چنا نچہ باد شاہ روداد سنکر وزیر کی تائید کی اور ڈبل بے غیرت کو انعام دے کر رخصت کیا جرمن یو نیور سٹی کا بیکار فنڈ بھی ایسا ہی انعام ہے شاہ صا حب ایک اور واقعہ سنا تے ہیں ایک باد شاہ نے سُستی اور کا ہلی کا مقا بلہ کروایا کھو جیوں نے گاوں گاوں گھوم کر سُست اور کا ہل لو گوں کی تفصیلات اکھٹی کر کے باد شاہ کو پیش کیا انعام صر ف ایک تھا کئی مہینوں کی جستجو کے بعد ایک آد می کو شارٹ لسٹ کیا گیا یہ وہ شخص تھا جو تین دن کا بھوکا پیا سا تھا کھا نا بھی میز پر رکھا ہوا تھا پا نی بھی تھا مگر وہ اُٹھ کر لقمہ توڑ نا نہیں چاہتا تھا پا نی کا گلا س اٹھا کر منہ سے لگا نا نہیں چاہتا تھا اور تین دن تک کوئی ایسا دوست نہیں ملا جو اس کے منہ میں لقمہ ڈال سکے اور پا نی اس کو پلا سکے ابھی اس کو انعام ملنے والا تھا کہ دوسرے شخص کے کوائف آگئے یہ شخص ایک جگہ لیٹا ہوا تھا اس کے منہ پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں وہ مکھیوں کو نہیں ہٹا تھا ان سے پو چھا گیا وجہ کیا ہے اُس نے کہا سات دن پہلے میں لیٹے لیٹے شہد کا پا نی پی رہا تھا پا نی گر گیا اور میرا چہر ہ بھی گیلا ہوا میں اُٹھنا نہیں چاہتا مکھیاں آ نے لگیں اور بھنبھنا تی رہیں میں اس انتظار میں تھا کہ با ہر سے کوئی آکر مکھیوں ہٹا ئے گا مجھے اب بھی مکھیوں پر ہاتھ ہلا تے ہوئے شرم آرہی ہے اس شخص کے کوائف سن کر باد شاہ نے کہا سستی اور کا ہلی کا انعام اس نا بغۂ روز گار شہری کو دیدو جوا یک ہفتے تک مکھیاں نہ ہٹا سکا۔لگتا ہے یو نیور سٹی آف فائن آرٹس پر بھی ایسے ہی باد شاہ کا سایہ ہے جس کو بیکار فنڈ جاری کر کے سب سے بیکار آدمی کو تلا ش کرنے کا خیال آیا ہے اس اچھوتے منصوبے کے ذریعے 1900ڈالر حا صل کرنے والے تین بیکار اُمید واروں کا انتخا ب بہت پیچید ہ اور مشکل کا م ہو گا پرا جیکٹ کی شرائط میں نیند کو بھی مستقل کا م کا درجہ دیا گیا ہے یعنی اُمید وار اپنی بیکاری کے لئے نیند کا انتخا ب نہیں کر سکیگا سوچنے کو بھی با قاعدہ کا م کا درجہ دیا گیا ہے کامیاب اُمیدوارکے لئے اس مدت کے اندر سوچنا حرام ہوگا ایسی بیکاری جس میں سو نا ممنوع ہو، سوچنا ممنوع ہو یقینا اچھوتی بیکاری ہو گی اگر یہ سکیم پا کستا نیوں کو مل گئی تو ہماری قوم میں ایک سے بڑھ کر ایک بیکار مل جائے گا ہو سکتا ہے کہ جرمنوں کی دیکھا دیکھی پا کستان کی یو نیورسٹیوں میں بھی بیکار فنڈ پیدا کر کے بیکار پرا جیکٹ شروع کئے جائینگے ہم نے یہ تجویز شاہ صاحب کے سامنے رکھی تو کھل اُٹھے اور کہنے لگے یہاں کا ہر فنڈ بیکار فنڈ ہے اور ہر سکیم بیکار سکیم ہے فرق یہ ہے کہ ہم آنکھیں بند کر کے بیکار کو بھی کا ر آمد کا نام دے دیتے ہیں۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



