حکومت اور این ڈی ایم اے متاثرین کے ساتھ امداد کے جھوٹے دعوے کرکے متاثرین کے زخموں پر نمک پاش کر رہا ہے۔ متاثرین گولین

Print Friendly, PDF & Email

چترال (محکم الدین) گولین سیلاب متاثرین نے حکومتی بے حسی پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اور کہا ہے۔ کہ گولین کی پوری آبادی محصور اور مفلوج ہو چکی ہے۔ لوگ گاوں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ روڈ، پل تباہ ہو گئے زندگی کی سہولیات ختم ہو گئی ہیں۔ جبکہ مزید سیلاب کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ علاقے میں موجود خوراک کے اسٹاک ختم ہو چکے ہیں، پن چکیاں سیلاب برد ہو گئی ہیں۔ اس لئے خوراک اور ادویات کا سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ لیکن حکومت اور این ڈی ایم اے متاثرین کے ساتھ امداد کے جھوٹے دعوے کرکے متاثرین کے زخموں پر نمک پاش کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشکیلی گولین کے مقام پر متاثرین کی نمایندگی کرتے ہوئے ویلیج ناظم گولین مطیع الرحمن، سماجی کارکناں صفدر علی کاش اور شفیع الرحمن نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ لوگ حکومت کی طرف سے ریسکیو کرنے کے انتظار میں ہیں۔ صرف نو متاثرین کو ریسکیو کیا گیا۔ اور آٹے کے بیس تھیلے پہنچا دیے گئے اس کے بعد ہیلی کاپٹر پر نظر نہیں پڑی۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا بیس بیگ آٹا بھی ابھی تک متاثرین کو نہیں دیا گیا ہے۔ متاثرین نے دکانوں میں موجود خوراک کی تمام اشیاء ختم کر دی ہیں۔ اور اب صرف باہر کی امداد پر ان کی نظر ہے۔ الخدمت فاونڈیشن کے رضاکاروں نے جو مشکل اور دشوار گزار راستے سر کرکے وادی تک خوراک کی اشیاء پہنچائی ہیں۔ اس نے چند گھروں کی خوراک کی مشکلات ضرور وقتی طور پر حل کر دی۔ لیکن یہ مستقل حل نہیں۔ اس لئے حکومت فوری طور پر راستوں کی بحالی تک بذریعہ ہیلی کاپٹر خوراک کی فراہمی کا انتطام کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا۔ کہ روڈ کی بحالی کا انتظام کیا جائے۔ علاقے میں موجود بیمار متاثرین کے علاج کیلئے ڈاکٹر اور ادویات پہنچائی جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا۔ کہ چار دنوں سے مختلف آفیسران روڈ کی حالت دیکھنے آتے ہیں۔ اور سیلاب کی تباہی کا نظارہ کرکے چلے جاتے ہیں۔ اس کی بحالی کیلئے کوئی بھی آفیسر سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا۔ اگر حکومت کرنا چاہے تو بہت کچھ کر سکتی ہے۔ لیکن متاثرین کیلئے ان کے دل میں درد موجود نہیں ہے۔ درین اثنا ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ اور چیرمین ڈیڈک وزیر زادہ کے زیر صدارت واپڈا کالونی کوغذی میں گولین سیلاب کے سلسلے میں ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تما اداروں کے آفیسران اور ان کے نمایندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیر مین ڈیڈک وزیر زادہ نے اداروں کی سستی اور غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی سرزنش کی۔ اور کہا۔ کہ قدرتی آفات ہنگامی اقدامات اور کام کے متقاضی ہوتے ہیں۔ یہ عام زندگی کے منصوبوں جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن نہایت افسوس کا مقام ہے کہ سیلاب آئے چار دن ہوئے۔ کوئی بھی ادارہ مصیبت زدہ لوگوں کی بحالی کیلئے قدم اُٹھایا۔ بلکہ بعض نہایت ذمہ دار ادارے آج اس جگہ تشریف لائے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ وقتی طور پر اداروں کے پاس عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے جو بھی فنڈ موجود ہے اس کو استعمال کریں۔ اس حوالے سے وزیر اعلی سے خصوصی اپروول لی جائے گی۔ اور مزید فنڈ حاصل کیا جائے گا۔ ضلع ناظم نے کہا۔ کہ یہ وقت مزید ضائع کرنے کا نہیں۔ اگر ایک دو دنوں میں کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ تو متاثرین کے ساتھ دیگر لوگ بھی میدان میں آئیں گے۔ اس وقت ان کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس موقع پر بتایا گیا۔ کہ متاثرین تک امداد لے جانے کیلئے ہیلی کاپٹر کی سہولت ممکن نہیں۔ اس لئے پیدل راستے بنانے پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر حاضر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے سربراہوں نے مختلف تجاویز دیں۔ اور ایک کمیٹی تشکیل دی۔ جس میں تمام اداروں کی نمایندگی ہوگی۔ اور اس کمیٹی کا بیس کیمپ مشیلک میں ہو گا۔ جس میں روزانہ کی بنیاد امدادی کاموں کے سلسلے معلومات اپڈیٹ کئے جائیں گے۔ اجلاس میں برغوزی، چترال ٹاؤن، کجو اور موری بالا وغیرہ علاقوں کے متاثرہ پائپ لائن کی بحالی کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ اور ضلع ناظم نے اپنی طرف سے پانچ لاکھ روپے کے ہنگامی فنڈ کا اعلان کیا۔ جبکہ فوکس کی طرف سے کیبل کار کی فراہمی کی۔ بعد آزان کاری چترال سے تعلق رکھنے والے ممتاز بز نس مین بشیر احمد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف سے اپیل کی۔ کہ متاثرین تک امداد پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹر مہیا کیا جائے۔ انہوں نے متاثرین کو مستقل بنیادوں پر محفوظ مقام پر منتقل کرکے آباد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔