(چترال میل رپورٹ)خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے کہا ہے کہ صوبے میں شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات کا انعقاد ہمارے سامنے بڑا چیلنج ہے اور اس کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لاکر ممکن بنا رہے ہیں اس کے علاوہ صوبے میں شامل ہونے والے نئے اضلاع کے عوام کو فوری ریلیف دینا اور وہاں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پید ا کرنا ترجیح ہے۔ انہوں نے صنعتوں کے فروغ کیلئے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور مقامی لیبرز کیلئے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی۔ انہوں نے چھوٹے تاجروں کے چیمبر کیلئے انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاٹ کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تاجر برادری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے تیار ہیں تاہم ٹیکس کلچر کا فروغ ناگزیر ہے۔ ریاست اور شہریوں کے باہمی حقوق اور ذمہ داریاں ہیں جن کا تعین کئے بغیر خوشحال معاشرے کا قیام مشکل ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں مہمند ایجنسی چیمبر آف کامرس اور پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مشترکہ وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ نگران صوبائی وزیر برائے صنعت ثناء اللہ، نگران صوبائی وزیر توانائی فضل الٰہی، چیف ایگزیکٹیو ازمک، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے نگران وزیراعلیٰ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیااور نئے اضلاع میں صنعتوں کے فروغ کے سلسلے میں مطلوبہ مراعات اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں شامل ہونے والے نئے اضلاع کے عوام بڑی تکلیف سے گزرے ہیں اسلئے وہ ذاتی طور پر اُن کو فوری ریلیف دینے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی حکام سے بھی بات چیت کرچکے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے نئے اضلاع میں عبوری مدت کے دوران ٹیکس کے استشنا ء سے اُصولی اتفاق کیا تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ عبوری دور کے بعد ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیئے۔ وفد نے نگران وزیراعلیٰ کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ٹیکس ادا کریں لیکن جب ترقی ہو جائے گی اور حالات بہتر ہو جائیں گے تو ہم بھی ٹیکس دینے کیلئے تیار ہیں۔ وفد نے نئے اضلاع میں سپیشل اکنامک زون کا مطالبہ بھی کیا جس پر نگران وزیراعلیٰ نے قابل عمل جگہ کا انتخاب کرنے کی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ وہ اس سلسلے میں آنے والی حکومت کو گائیڈ لائن دے سکتے ہیں اُنہوں نے کہاکہ ہم تکالیف سے دوچار عوام کیلئے مزید بہت کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ وہ ہمارے صوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ ہر دو اضلاع میں ایک یونیورسٹی، چار پروفیشنل کالجز بمعہ فیڈنگ سکولز قائم کرنے کیلئے طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کر چکے ہیں جس پر کام ہو رہا ہے۔اس موقع پر پشاور چیمبر آف کامرس نے پروفیشنل ٹیکس پر تحفظات کا اظہار کیا جس پر وزیراعلیٰ نے چیمبر ز سے تحریری طور پر تجاویز طلب کیں اور کہاکہ دیگر تمام سٹیک ہولڈر محکموں کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلہ خیالات کے بعد جس قدر ممکن ہوا، ریلیف دینے کو تیار ہیں تاہم ٹیکس کی ادائیگی کا کلچر بھی ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ٹیکس کی ادائیگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


