دھڑکنوں کی زبان۔۔چترال کی تین قابل فخر بیٹیاں۔۔محمد جاوید حیات

Print Friendly, PDF & Email

کسی نے کہا خوب کہا ہے کہ عقل پہاڑوں میں پیدا ہوتی ہے اور شہروں میں پنپتی ہے۔۔سچ کہا ہے۔۔چترال ہر لحاظ سے پہاڑہے۔پسماندگی،سہولیات کے فقدان،موجودہ تقاضوں کے مطابق تعلیم کی سہولیات نہ ہونا۔۔یہاں کے رہنے والے اس لئے لمحہ موجود کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتے ہیں۔پیچھے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔۔ لیکن جو چترال سے کسی نہ کسی طریقے سے باہر کے اچھے اداروں میں پڑھتے ہیں وہ نام کماتے ہیں۔اپنے چترال کا نام بھی روشن کرتے ہیں اور اپنا بھی۔۔اس سال سول سروس کے بڑے امتحان ”سی ایس ایس“میں چترال کی تین عظیم بیٹیاں میمونہ۔۔شگفتہ اور ڈاکٹر ثانیہ حمیدنے کوالیفائی کر گئیں ان پہ جتنا فخر کی جائے کم ہے۔۔انھوں نے اس بات کو ثابت کیا کہ واقعی عقل چترال جیسے خوبصورت پہاڑوں میں پیدا ہوتی ہے۔ہرچترالی ان بیٹیوں پہ فخر کر رہا ہے۔۔مجھ جیسا گمنام چترالی دعا گو ہے کہ اللہ ان کو خوبصورت زندگی کے ساتھ قوم کی درست معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔”چترالیت“میرا خواب ہے۔۔”چترالیت“ایک چیپٹر ہے۔۔ سی ایس ایس جیسا بڑا کھٹن اور بڑا مشکل امتحان۔۔سوچا جیسا سکتا ہے۔۔کہ کیا یہ عظیم بیٹیاں اس بڑے عہدے،چمکتی کرسی اور ہائی پروٹوکول کی چکا چوند میں چترالی رہ سکتی ہیں۔۔کیا ان کی فطرت میں وہ روایتی شرافت،احترام،محبت،معصومیت،لباس کی وہ شان،نشت وبرخواست کا وہ وقار،بڑوں اور بزرگوں کے سامنے بچھے جانے کا وہ انداز بر قرار رہ جائے گا۔۔یقینا برقرار رہ جائے گا۔۔کیونکہ یہ ان کی فطرت میں ان کے خون میں شامل ہے۔۔یہ بیٹی جس دفترمیں جس کرسی پہ ہوگی۔۔اگر اس کو بتایا جائے گا کہ باہر ایک غریب بزرگ اپنی ملاقات کی باری کا انتظار کر رہا ہے تو یہ تڑپ کے کہے گی کہ اس کو فور اً اندر بلاؤ۔۔اگر اس کو بتایا جائے گاکہ کوئی چترالی آیا ہے تو چیخ کر باہر آئے گی اور کہے گی کہ آپ کی بہن،بیٹی اس دفتر میں بیٹھی ہے باہر انتظار کیوں؟۔۔اگر اس کے سامنے حق اور ناحق کا معرکہ ہو رہا ہو گا تو وہ حق کا حمایتی ہو گی۔۔اس کے سامنے حق جیتے گا۔۔انصاف کابول بالا ہوگا۔۔باہر لوگ کہیں گے کہ اس دفتر میں چترالی بیٹھی ہوئی ہے یہاں سے ناانصافی کی بو بھی نہیں آئے گی۔۔اس کی آنکھو ں میں اُمید کی روشنی انصاف کے طلبگاروں کے لئے ایک مینارہ نور ہوگی۔۔یہ تھکے گی نہیں۔۔یہ وقت سے پہلے اپنے دفتر پہنچے گی۔۔یہ ماتختوں کو ڈانٹے گی نہیں۔۔اس کی آنکھوں میں وحشت نہیں ہوگی۔۔وہ جھاڑ نہیں پلائی گی۔۔ اس کے الفاظ سے خوشبو آئے گی۔۔وہ دلوں کو جیت جائے گی۔۔اس کا احترام سب کے دلوں میں ہو گا۔۔کسی کو جرائت ہی نہ ہو گی کہ وہ اس کے کھراپن اور صداقت کی راہ میں کانٹا بچھانے کی کوشش کرے۔۔وہ مکمل چترالی لباس میں ہوگی۔۔اس کے بال کسی کو دیکھائی نہیں دینگے۔اس کے ناخن پہ پالش نہیں ہوگی۔اس کے ہونٹ لال نہیں ہونگے۔وہ اپنے وقار سے ساری محافل پہ چھا جائے گی۔۔محافل کی زینت نہیں بنے گی۔۔اس کا دوپٹہ کبھی سر سے نہیں گرے گا۔وہ صبح کی اذان سے پہلے اُٹھے گی اور رب کے حضور سجدے میں گر کر فریاد کرے گی یا اللہ میرے لئے آسانیاں پیدا کرے۔مجھے ہر امتحان میں کامیاب کر۔۔وہ اسی طرح باورچی خانے میں گھسے گی۔۔ پیالے دھودھو کر صاف کرے گی والدین کے لئے ناشتہ بنائے گی۔چھوٹے بھائی کو سکول کے لئے تیار کرے گی۔۔اپنی باجی کو چاند کہہ کر اس کی پیشانی چومے گی۔۔اسی طرح اپنے ابو کا کمرہ صاف کرے گی۔۔اس کا رومال خود دھوئے گی۔۔اس کے کپڑے استری کرکے ہینگر میں لگائے گی۔۔اس طرح اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر مامتاکی خوشبو سونگھے گی۔۔اس سے کہے گی۔ماں میری پیشانی چوم لے کہ یہ چاند بن جائے۔۔اس کی آنکھوں میں محبت کے آنسو ہونگے۔۔وہ اسی طرح گھر کی شہزادی ہوگی اس کے بے غیر گھر سونی سونی ہو گا۔۔”وہ سانجی تھی سانجی ہی رہے گی“۔۔اس نے ایک دفعہ جو سی ا یس ایس کر لیا پھر یہ سب کچھ بھول جائے گی۔۔اس کو اس کا عہدہ،اس کا پروٹوکول،اس کے اختیارات کچھ یاد نہیں رہیں گے۔۔”وہ سانجی تھی سانجی ہی رہے گی“۔۔اگر کوئی یہ سب کچھ اس کو یاد دلائے بھی تو یہ کہے گی۔۔کہ میں آپ کی بیٹی تھی۔۔آپ کی بیٹی ہوں اور آپ کی بیٹی رہوں گی۔۔یہ گاؤں جائے گی تو گاؤں کی ہو جائے گی۔۔وہ معصوم،بھولی بھالی سی لڑکی۔۔مجھے یقین ہے ایسا ہی ہوگا۔۔اگر ایسا نہ ہوا تو روایتی سی ایس ایس آفسر ضرور ہوگی مگر ”چترال کی قابل فخر بیٹی“ کبھی نہیں رہے گی۔۔بڑے لوگوں کی دنیائیں بھی وسیع ہوتی ہیں۔۔شاید یہ سب کچھ ایک چھوٹے انسان کی باتیں ہیں۔۔مگر اس چھوٹے انسان کے سامنے وہ مثالیں ہیں جو سب کے لئے ماڈل ہیں۔۔ہمارے پاس ہمارے اسلاف کی مثالیں ہیں۔۔ہمارے پاس اسلام کے ان عظیم سپوتوں کا طرز حیات ہے اور شکر ہے کہ ہماری چترالیت عین اس کی مثال ہے۔اس چترالیت کے اندر رہتے ہوئے سی ایس ایس آٖفیسربنا جاسکتا ہے۔اور بے مثال آفیسر بنا جاسکتا ہے۔۔انسان اپنی اصلیت کو لوٹتاہے اس لئے اپنی اصلیت کو اپنی پہچان بنا لی جائے تو کیا برا ہے۔۔جس طرح ایک عام چترالی کے بارے میں یقین ہے کہ یہ شریف ہے۔۔پولیس والا ڈرائیور سے کہتا ہے کہ”اگر سب چترالی ہیں توچل آبے آگے بڑھ“۔۔یہی توقع انشا اللہ اسی آفیسر سے بھی ہو گی۔۔اگر چترال کی یہ قابل فخر بیٹیاں یہ لاینیں پڑھیں یا یہ ان تک نہ پہنچیں تو کوئی بات نہیں یہ ان کے بارے میں ایک عام چترالی کا خواب ہے خوابیں ادھورے بھی ہوتے ہیں۔۔میرا خواب پیارے چترال کی ایک عظیم بیٹی ہے۔۔اللہ کرے یہ ہمارے لیئے فخر بنیں۔۔اقبال نے ان انہی کو غیرت دلاتے ہوئے فرمایا تھا۔۔
نہیں یہ شان خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھے کوئی زیب گلو کر دے
ہماری بیٹیاں غیرت کے پتلے ہیں وہ جو اپنی پہچان بنا چکی ہیں وہی ہماری پہچان ہیں ۔۔۔۔۔۔