آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشت چترال میں “نذرانۂ عقیدت بحضور آقائے نامدار کے نام سے محفل ِ نعت کا انعقاد

Print Friendly, PDF & Email

چترال(نمائندہ چترال میل) گزشتہ دنوں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ میں رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے ایک محفل نعت ” نذرانۂ عقیدت بحضور آقائے نامدار” نے نام سے منعقد کی گئی۔ تقریب کی نظامت فیکلٹی ممبر نور شمس الدین نے کی۔ تقریب کا آغاز ٹھیک ساڑھے نو بجے کلاس فرسٹ ائیر کے طالب علم سیف الاسلام کی تلاوت ِ کلام پاک سے ہوا۔نعت رسول مقبولؐ کی سعادت کلاس فرسٹ ائیر کے طالب علم فدا علی نے حاصل کی۔ تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے اسکول ہذا کے کے پرنسپل طفیل نواز نے کہاکہ آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کی انفرادی اور اجتماعی مہارتوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ سکول اپنے آغاز دن سے نہ صرف اندرونی طلباء کے لیے بلکہ دوسرے سکولوں اور کالجوں کے طلباؤ طالبات کے لیے بھی سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے میں کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے سکول میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی نما ئش اور مقابلے،تقریری مقابلے، مباحثے، آرٹس اور کلچر فیر، نعتیہ محفل،مقابلہ حسنِ قرأت اور مقابلہ نعت خوانی وغیرہ جیسے پروگراموں کے انعقاد سے ہمارے متعلقین بخوبی آگاہ ہیں۔اس سلسلے کی ایک کڑی نعت خوانی کی یہ بابرکت محفل بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نعتیہ محفل ہمارے سلیبس کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ ضلع چترال کے اپنے جملہ متعلقین کے لیے بالعموم سکولوں اور کالجوں کے طلباء کیلئے بالخصوص رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کو دو بالا کرنے کے لیے منعقد کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ دورِ حاضر کے مادی دباؤ میں نشو و نما پانے والے طلباء کے ذہنوں میں نعت خوانی کی اہمیت کو اجاگر کرنااور اس کی طرف ان کو ترغیب دینا۔، ایک با عمل مسلمان بننے کیلئے سیرتِ طیّبہ کی پیروی کی اہمیت پر زور دینا اور اس شعور کو اجاگر کرنا کہ اسلامی تعلیمات میں نعت خوانیٔ رسولﷺ سے دلّی محبت کے اظہار اور فروع کا اور مذہب سے وابستگی کا اہم ذریعہ ہے۔نیزطلبہ میں مذہبی جمالیاتی ذوق کو بیدار کرنا ہے۔تقریب میں مدعو مہمان مقرر مفتی عتیق الرحمنٰ نے اسکول ہذا میں وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا سب سے اہم پہلو نظم و ضبط اور وقت کی پابندی بھی ہے۔ انہوں نے طلباء کو باعمل مسلمان بن کے جدید دنیا ہے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔
تقریب کے ایک اور مہمان مقرر الواعظ علی اکبر قاضی نے “حضورؐ کی تعلیمات اور دورِ جدید کے چیلنجز” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور کی جتنی بھی ترقی ہوئی ہے اس کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی تھی ۔لیکن موجودہ دور میں ہم اس ترقی کے خریدار کے طور پر زندگی گزاررہے ہیں۔ ہماری کوئی Contributionاس جدید دنیا میں نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم سے دوری ہے۔اس نعتیہ محفل میں گورنمنٹ سنٹیل ماڈل سکول چترال کے ابرار الحق،الخدمت فاونڈیشن کے فرداد احمد،چترال پبلک سکول اینڈ کالج چترال کے فاروق اویس،گورنمنٹ ہائی سکول ہون کے ثنا اللہ،قتیبہ سکول اینڈ کالج سسٹم عمر معاویہ، اے کیو خان سکول سسٹم یاسر عباس، ایف سی پی ایس چترال کے ذیشان جاوید، آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال کے عابد الرحمنٰ اور باسط حسن اور چترال کے معروف نعت خوان حنیف اللہ اور شمس الدین و نے بارگاہِ رسالت میں عقیدت کے پھول بصور تِ نعت نچھاور کیے۔