چترال (نمائندہ چترال میل) یونیورسٹی آف چترال میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا۔ تقریبات کا آغاز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاظر اللہ کی جانب سے پرچم کشائی سے ہوا، جس کے بعد پاکستان کے امن، سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ سرسبز پاکستان کے عزم کے اظہار کے طور پر شجرکاری بھی کی گئی۔
یومِ آزادی کی مرکزی تقریب یونیورسٹی کے مین ہال میں منعقد ہوئی، جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاظر اللہ نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں اساتذہ، افسران، ملازمین، طلبہ اور علاقے کے معززین نے شرکت کی۔
خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے قوم اور یونیورسٹی کمیونٹی کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ اساتذہ اور والدین نوجوان نسل کو قیامِ پاکستان کے حقیقی مقاصد اور بانیانِ پاکستان کی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ انہوں نے علامہ محمد اقبال کے تصورِ پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ “اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط” کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
انہوں نے قائداعظم کے 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں طلبہ سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو تعلیم پر توجہ دینے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک میں صرف ایک یونیورسٹی تھی، جبکہ آج 270 سے زائد جامعات اعلیٰ تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور قومی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں پر تعلیم، محنت، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی کے ذریعے ملک کی خدمت پر زور دیا۔
تقریب میں پاکستان کے قومی ہیروز کی قربانیوں پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی، جبکہ طلبہ نے اردو اور انگریزی میں تقاریر کیں۔ قومی ترانے، ملی نغمے، کیک کاٹنے کی تقریب اور یومِ آزادی واک بھی پروگرام کا حصہ تھے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔



