حسبِ روایت اس سال بھی یومِ آزادی کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ جگہ جگہ بینرز، جھنڈیاں، بیجز، ٹوپیاں، بچوں کے کھلونے اور جا بجا لگے خوبصورت سٹالز جشن کا پتہ دے رہے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر پر ملی نغموں کی شاندار آوازیں گونج رہی ہیں اور مختلف اداروں میں تقاریب کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک طرف مال و دولت والے، بڑے آفیسرز، جاگیردار اور سرمایہ دار اپنے بچوں کے لیے کھل کر شاپنگ کر رہے ہیں۔ جو دل میں آ رہا ہے، وہ خریدا جا رہا ہے— حلال و حرام یا جائز و ناجائز کی فکر کیے بغیر! یہ ہمارے معاشرے کا وہ “ایلیٹ کلاس” (Elite Class) ہے جو خوشحال ہے، پرامن ہے اور جس کے لیے ترقی کے تمام راستے کھلے ہیں۔
لیکن دوسری طرف، اسی ملکِ خداداد میں ایک اور طبقہ بھی آباد ہے— بے گھر، بے در اور محروم! جن کے لیے زندگی کسی عذاب سے کم نہیں۔ جن کا چولہا روزانہ نہیں جلتا اور جنہیں دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں۔ جب ان کا بچہ ابھی بمشکل پاؤں پاؤں چلنا سیکھتا ہے، تو پیٹ کی ہوس مٹانے کے لیے یا تو بھکاری بنا دیا جاتا ہے یا مشقت کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔
اس بچے کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کی چکا چوند سے مکمل طور پر بے بہرہ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جیب میں پیسے ہونا، محل نما گھروں میں رہنا، مرضی کا لباس پہننا اور پسند کا کھانا کھانا کیا ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ مسکراہٹیں اور قہقہے کیا ہوتے ہیں، سکول نامی عمارت کسے کہتے ہیں جہاں بچے پڑھنے جاتے ہیں، یا کھیل کے میدان کیا ہوتے ہیں جہاں بچپن مسکراتا ہے۔ وہ ان باتوں سے ناآشنا ہے کہ گھروں میں مہمان خانے الگ ہوتے ہیں، جہاں دعوتیں اور پارٹیاں سجتی ہیں، یا فیملی کی خواہش پر بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھایا جاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ معاشرے میں “سٹیٹس” کی جنگ کیا ہوتی ہے اور خواہشات کے پیچھے کیسے بھاگا جاتا ہے۔
یہ اس ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو “ازلی محروم” ہے۔ یہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئے۔ انہوں نے جب بھی آنکھ کھولی، اپنے اردگرد زندگی کو سسکتے، غربت کو ناچتے اور محرومیوں کو لٹتے دیکھا۔ اگر اس طبقے کے کسی ایک فرد کی مثال لیں، تو اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کا بچپن کب ختم ہوا اور جوانی کب آئی اور چلی گئی۔ اس کی پوری زندگی ایک دائرے میں گھومتی ہے: صبح پرندوں اور چرندوں کی طرح رزق کی تلاش میں نکلنا، کندھے پر چنے کا دبا اٹھانا یا ریڑھی لگانا۔ اسے رہ رہ کر صرف اپنے بھوکے ماں باپ اور بچوں کا خیال ستاتا ہے۔ شام کو بمشکل ایک وقت کی روٹی کا سامان ہوتا ہے۔ دن ڈھلتے ہیں، راتیں بیتتی ہیں اور ہر نئی صبح ایک نئی مشقت تحفے میں لاتی ہے۔
اسے صرف اتنا معلوم ہے کہ جو روٹی کل 40 روپے کی تھی، آج 50 روپے کی ہو چکی ہے۔ وہ اس مہنگائی کی وجہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا، اور اگر پوچھے بھی تو اس کی آواز صحرا میں گم ہو جاتی ہے۔ اسے نہ ملکی خزانے کا علم ہے، نہ وہ ریونیو، زرمبادلہ، ترقیاتی سکیموں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو سمجھتا ہے۔ اس کی زندگی میں قرض کا تجربہ نہیں ہوتا، وہ تو لفظ “قرض” ہی سے خوف کھاتا ہے۔ اسے آئی ایم ایف (IMF)، ورلڈ بینک یا یورپی یونین کا کچھ پتہ نہیں۔ اسے نہیں معلوم کہ گیس اور تیل کہاں سے آتے ہیں، اور درامدات و برامدات کیا ہوتی ہیں۔
اگر اس کے باپ نے کسی سکول میں پڑھا ہوتا یا کسی استاد سے سنا ہوتا، تو وہ اسے بتاتا کہ ریاست کیا ہوتی ہے، شہری کے حقوق کیا ہوتے ہیں، اور یہ کہ ریاست عوام کے ٹیکسوں سے چلتی ہے۔ کاش اسے معلوم ہوتا کہ اس سرزمین کی دولت، شادابی اور معدنیات پر ہر شہری کا برابر کا حق ہے! کاش اسے خبر ہوتی کہ اگر کہیں میٹھے پانی کا چشمہ ہے تو اس کا پانی سب کے لیے ہے، اور اگر ملک میں خوشحالی یا عسرت ہے تو اس میں سب کا برابر کا حصہ ہونا چاہیے— یہ خوشحالی صرف چند خاندانوں کی جاگیر نہیں!
کاش وہ جان سکتا کہ دنیا کے مہذب ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہاں حکمرانوں کی پہلی ترجیح عوام اور ان کی خوشحالی ہوتی ہے۔ وہاں بچے روڈ پر مزدوری یا بھیک نہیں مانگتے، بلکہ ان کے پیدا ہوتے ہی ریاست ان کا وظیفہ مقرر کرتی ہے، تب جا کر ان کے دلوں میں ریاست کی سچی محبت جاگتی ہے۔
پچھلے کچھ دنوں سے وہ کندھے پر سامان اٹھائے گلی محلوں میں ملی نغمے سنتا آ رہا ہے:
“یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے…”
“چاند روشن چمکتا ستارہ رہے، سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے…”
“اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں…”
ان نغموں کو سن کر اسے ایک عجب سی تسکین ملتی ہے، لیکن اس کے منہ سے صرف ایک ہی جملہ نکلتا ہے— کبھی ترنم میں، تو کبھی زیرِ لب تلخی سے: “یہ وطن ہمارا ہے!”
وہ بازاروں اور بس اڈوں پر مسافروں کو تکتا رہتا ہے۔ جب کوئی قیمتی گاڑی زناٹے سے اس کے پاس سے گزرتی ہے، تو اس کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے اور زبان سے نکلتا ہے: “یہ وطن ہمارا ہے!”
کسی مشروبات کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے، جب شدید پیاس میں ٹھنڈی بوتلوں پر نظر پڑتی ہے، تو دبا ہوا جملہ ابھرتا ہے: “یہ وطن ہمارا ہے!”
ہوٹل کے قریب سے گزرتے ہوئے جب بریانی اور پلاؤ کی خوشبو آتی ہے، تو وہ پھر یہی دہراتا ہے: “یہ وطن ہمارا ہے!”
14 اگست کو حسبِ معمول شاندار تقریبات ہوں گی، تقاریر کی جائیں گی اور وطن سے محبت کی قسمیں کھائی جائیں گی۔ حکمران بظاہر بے حسی سے کہیں گے کہ “الحمدللہ ملک ترقی کر رہا ہے، دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، عوام نہال ہیں، انصاف دہلیز پر ہے، فوج چوکنا اور پولیس بیدار ہے!”
پھر 14 اگست گزر جائے گا اور 15 اگست کی صبح آئے گی۔ چھابڑی والا پھر روٹی کی تلاش میں نکلے گا اور شاید اس جملے کو بھی بھول چکا ہو گا، کیونکہ نغمے خاموش ہو چکے ہوں گے اور پنڈال ویران!
ہاں! کوئی ایک سرفروش سرحد کے کسی محاذ پر بندوق تھامے کھڑا رہے گا، کوئی پاسبان کسی چوک پر ڈیوٹی دے رہا ہو گا… لیکن نظام وہی رہے گا۔ حکمران اپنی رنگین شاموں اور ضیافتوں میں مگن ہو جائیں گے اور عام شہری کے لیے زندگی پھر وہی مشقت بن جائے گی۔
اور سب ایک بار پھر اس جملے کو بھول جائیں گے کہ… “یہ وطن ہمارا ہے!”



