لینڈ سیٹلمنٹ کے بارے میں شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اہالیان پرواک پائین کا اعلی حکام سے اپیل

Print Friendly, PDF & Email

 

چترال (نمائندہ چترال میل) اہالیان پرواک پائین نے وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیوخیبر پختونخوا سے پرزور اپیل کی ہے کہ لینڈ سیٹلمنٹ کے بارے میں ان کے شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔ لینڈ سیٹلمنٹ میں ریکارڈ ز کے بارے میں مقامی میڈیا کو اپنے تحفظات بتاتے ہوئے گاؤں کے عمائیدین عیسیٰ علی خان، حکیم خان اور دوسروں نے کہاکہ لینڈ سیٹلمنٹ اسٹاف نے مبینہ طور پر ریکارڈ میں تحریفات کردی ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد متاثر ہوگئے ہیں اور متعلقہ دفاتر میں ان کی شنوائی نہ ہونے پر کئی ایک عدالت سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف ڈیزاسٹر کی وجہ سے گاؤں کے لئے ابپاشی کا پانی بند ہونے پر ان کی معیشت برباد ہوکر رہ گئی ہے تو دوسری طرف اس مسئلے نے ان کا سکھ اور چین چھین لیا ہے۔ انہوں نے لینڈ سیٹلمنٹ کے اسٹاف کی طرف سے ریکارڈز میں تحریف کرنے کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ 1985ء میں سائفن ایریگیشن اسکیم سے پرواک پائین کے آباد ہونے کے بعد ایک قطعہ زمین کو مشترکہ استعمال کے لئے مختص کیاگیا تھا جسے پلے گراونڈ اور دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا تھا لیکن اسے اب ایک فرد کی ملکیت قرار دے دی گئی ہے اور گاؤں کے بچوں کو وہاں کھیلنے سے بھی محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکیم خان نے کہاکہ کئی سال قبل انہوں نے سڑک سے متصل ایک قطعہ زمین خرید کر اس میں کاشت کاری کررہا تھا اور اس کی کھتونی میں اس کے نام تھا مگر اب اسے دوسرے شخص کی ملکیت کے طور پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ریکارڈ فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو گاؤں میں بدامنی اور جھگڑوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پرواک کے پورے گاؤں بشمول قدرت آباد کے لینڈ سیٹلمنٹ ریکارڈ زمیں مبینہ تحریفات کے ذمہ داروں کی تعین کرنے اور ریکارڈز کی درستگی لازمی ہے جس کے لئے فوری طور پر کمیشن کی تشکیل دی جائے۔