چترال (نما یندہ چترال میل) باوثوق ذرائع کے مطابق جامعہ چترال نے حکومت کی جانب سے فنڈز مہیا نہ کرنے کی بنا پر ایک سرکلر کے ذریعے ماہ مئی سے ملازمین کی تنخواہیں دینے سے معذوری ظاہر کردی ہے۔ جامعہ کا پہلا بجٹ سینیٹ نے پچھلے سال جون میں گورنر کی سربراہی میں منظور کیا تھا جس کی رو سیحکومت نے یونیورسٹی کو تنخواہوں اور جاری اخراجات کی مد میں دو سو ملین روپے کی رقم مہیا کرنا تھی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم اجراء کی بناء پر یونیورسٹی انتظامیہ نیہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی وساطت سے وزیر اعلی سے ایک سمری کے ذریعے فنڈز کی استدعا کیا تھاجسے وزیر اعلی نے مارچ کے مہینے میں منظور کیا تھا۔ تاہم فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ابھی تک فنڈز جاری نہیں کئے بلکہ مذکورہ فنڈز کے اجراء کو کابینہ کی منظوری سے مشروط کردیا ہے۔ یاد رہے کہ مارچ کے سے اب تک کابینہ کے کئی میٹنگ ہوچکے ہیں لیکن یہ کیس اب تک ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جاسکا۔دوسری طرف جامعہ چترال جیسی نئی یونیورسٹی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے کیونکہ اسے پچھلے کافی عرصے سے جاری اخراجات کی مد حکومت کی جانب سے کوئی فنڈز نہیں ملے ہیں۔ نتیجتاً پچھلے چھ مہینوں سے یونیورسٹی نے دوسرے مدات سے فنڈز تنخواہوں کی مد میں منتقل کرکے اب تک ملازمین تنخواہیں دیتی رہی ہے اور اب وہ فنڈز بھی ختم ہوگئے تو یونیورسٹی کی جانب سے مذکورہ سرکلر جاری کردیا گیا ہے۔ مزید برآں جامعہ کے ملازمین حکومت کی جانب سے پچھلی بجٹ میں تنخواہوں میں کئے گئے اضافوں سے بھی اب تک محروم ہیں جبکہ یونیورسٹی پچھلے کافی عرصے سے مختلف واجبات کی ادائیگی سے بھی قاصر ہے۔
حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کی بنا پر جامعہ چترال کے کلیدی انتظامی اور تدریسی عہدے خالی پڑے ہیں جس کی بناء پر جامعہ کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی آف چترال دو اضلاع پر مشتمل اس دو دراز علاقے کی واحد باقاعدہ یونیورسٹی ہے اور اس سے غفلت اس پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کیلئے اعلی تعلیم کی واحد سہولت کی جانب حکومت کی بے اعتنائی ظاہر کررہی ہے۔
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


