داد بیداد ۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔۔جتنے اکاونٹ اتنی با تیں

Print Friendly, PDF & Email

داد بیداد ۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔۔جتنے اکاونٹ اتنی با تیں

اچھی خبر یہ ہے کہ اسلا می نظر یاتی کونسل کی سفارش پر حکومت نے جمعہ کے خطبات کے لئے 100مو ضو عات کی فہرست تیار کی ہے جس کو ملک کے اندر جا مع مسا جد میں خطیبوں کے ذریعے نما ز جمعہ کے اجتما عات میں سنا یا جا ئے گا ان مو ضو عات کا تعلق معا شرتی رواداری، اخلا ق حسنہ، حقوق العباد اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ اسلا می بھا ئی چارے کو فروغ دینے سے ہے وزارت مذہبی امور ایک مر حلہ وار پرو گرام کے ذریعے اس منصو بے کو نا فذ کر یگی اس کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب اما رات، کو یت اور عراق کی طرح مملکت خدا داد پا کستا ن کی مسا جد سے بھی ایک ہی مو ضوع پر خطبے دیئے جا ئینگے اور خطبے کا دورانیہ بھی ایک جیسا ہو گا اس وقت کراچی سے چترال اور چمن سے خیبر تک فکری ہم آہنگی اور معاشرتی رواداری کے مو ضوع پر اسی نو عیت کے خطبوں کی ضرورت ہے تا کہ ذہنی انتشار اور فکری افرا تفری کا شکار ہونے والی قوم پھر سے یکجا ہو جا ئے خصو صاً سوشل میڈیا کی بے ہنگم مہم کا مقابلہ کر نے کے لئے اس طرح کی حکمت عملی بہت ضروری ہے چند سال پہلے تک فکری انتشار کا کام صرف تقریروں، افوا ہوں اور زبا نی کلا می پرو پگینڈے سے لیا جا تا تھا خواتین کے ذریعے افوا ہیں پھیلا ئی جا تی تھیں شادی اور غمی کی تقریبات میں رنگا رنگ افوا ہوں کا بازار گرم کیا جا تا تھا 2021ء میں سوشل میڈیا نے یہ کام سنبھا ل لیا ہے فیس بک، ٹو ئیٹر، انسٹا گرام اور دیگر ذرائع نے افوا ہوں کو نئی جہت دی ہے حکومت کے خلا ف، کسی مذہبی گروہ کے خلاف کسی سیا سی لیڈر کے خلا ف یا کسی سما جی شخصیت کے خلا ف پرو پگینڈے کے لئے سوشل میڈیا کو کسی روک ٹوک اور چھا نٹی کے بغیر آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے حکومت کے اچھے اقدامات کو مشکوک بنا یا جا تا ہے اسلا م کے متفقہ عقائد اور نظر یات کی نفی کی جا تی ہے مسلما نوں کے ذہنوں میں عبادات اور اعتقادات پر شک کرنے کا بیج بو یا جا تا ہے غرض ”جتنے اکا ونٹ اتنی باتیں“ اب کوئی یہ نہیں کہے گا جتنے منہ اتنی باتیں کسی پلیٹ فارم سے کسی سٹیج کو استعما ل کر کے تقریر کر نے والا اتنظا میہ کو اچھی طرح معلو م ہوتا ہے پکڑا بھی جاتا ہے سزا بھی پا تا ہے مگر سوشل میڈیا پر ایک شخص جر منی، فرانس، امریکہ، بر طا نیہ میں بیٹھ کر افواہ اڑا دیتا ہے یا دو بئی اور سنگا پور میں بیٹھا ہوا شخص لمبی چھوڑتا ہے پا کستان میں دو چار بندے سوچ سمجھ کر مخصوص مفا دات کے لئے اس کی حمایت کر تے ہیں پھر ہزاروں صارفین محض دل لگی اور وقت گذاری کے لئے بلا سوچے سمجھے اس پوسٹ پر اوٹ پٹا نگ اور الل ٹپ تبصرے شروع کر دیتے ہیں اس کو وائرل کیا جاتا ہے ٹرینڈ بنا یا جا تا ہے اس طرح ایک فضول بحث ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہیتی ہے قوم کو اس طرح کے فکری انتشار سے بچا نے کے لئے نظر یاتی مملکتوں نے بیرونی اثرات والے فیس بک، انسٹا گرام اور ٹیو ٹیر پر پا بندی لگا کر اپنے ملک کے لئے محدود اسلوب کا الگ سوشل میڈیا متعارف کر ایا ہے آپ کو روس، چین، شما لی کوریا اور ایران میں پا کستان والا فیس بک نہیں ملے گا ان میں ہر ملک کا الگ فیس بک ہے جو ان کے نظر یا تی تشخص اور قو می ضرورتوں سے ہم آہنگ ہے اس میں خبروں، پوسٹوں اور تبصروں کی چھا نٹی کا با قاعدہ نظا م مو جو د ہے ان ملکوں میں سوشل میڈیا پر قو می مفا دات اور نظر یا تی تشخص کے خلا ف کوئی پو سٹ یا کوئی کمنٹ نہیں آسکتا جو قوم کی ہم آہنگی کو پارہ پا رہ کر سکے وطن عزیز پا کستا ن میں ایک آدھہ بار ایسی پا بندیاں لگا ئی گئی تھیں لیکن بیرونی دباؤ کے تحت پا بندیوں کو اٹھا یا گیا ”گو را ما موں“ کی نا راضگی ہم مو ل نہیں لے سکتے یہ بات خوش آئیند ہے کہ حکومت نے کسی نہ کسی سطح پر فکری ہم آہنگی کے بیج بو نے کا اہتما م کیا ہے اگر محراب و منبر سے آغاز ہوا تو بات سوشل میڈیا تک پہنچ جا ئیگی سوشل میڈیا کو لگا م دینے کے بعد تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں کے طرز تدریس کی بھی نو بت آئیگی، یکساں نصاب تعلیم کا چر چا ہو گا قوم کو فکری یک جہتی کا ثمر مل جا ئے گا پھر جتنے منہ اتنی باتیں اور جتنے اکا ونٹ اتنی باتیں سننے کو نہیں ملینگی۔