چترال ( نما یندہ چترال میل ) لویر چترال کی ضلعی انتظامیہ نے ڈاؤن ڈسٹرکٹ سے ہزاروں کی تعداد میں ذبح شدہ مرغیاں بوریوں میں بھرکر اپر چترال ٹرانسپورٹ کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا اور انہیں مضر صحت اور مشکو ک قرار دے کر دریا برد کردیا۔ ایڈیشنل اے سی شہزاد احمد نے بتایاکہ پیشگی اطلاع ملنے پر انہوں نے کوغوزی کے قریب اپر چترال جانے والی ایک ڈاٹسن کو روکا جس میں ذبح شدہ مرغیوں کی بوریاں لوڈ کئے گئے تھے۔ انہوں نے بتایاکہ ان مرغیوں کو کھلی گاڑی میں اور حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ٹرانسپورٹ کئے جارہے تھے جبکہ ایسے مواد کو ایک خاص ٹمپریچر پر رکھنے کیلئے کولڈ چین کا انتظام بھی لازمی ہوتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ گاڑی کے مالک کے پاس مجاز اتھارٹی سے کوئی اجازت نامہ یا اتھارٹی لیٹر بھی موجود نہیں تھا جس کی بنا پر انہیں واپس چترال لانے کے بعد فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے ساتھ مشاورت کے بعد اس ناقابل استعمال چکن کو دریا برد کردیا گیا جبکہ مالک کے خلاف فوڈ ایکٹ کے تحت کاروائی بھی کی جائے گی۔ شہزاداحمد نے چترال کے عوام پر زوردیا ہے کہ وہ ایسے مشکوک اشیائے خوردونوش کی نقل وحمل اور خرید وفروخت کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کو بروقت اطلاع دے دیں تاکہ ان کے خلاف کاروائی کیا جاسکے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


