چترال (نما یندہ چترال میل) چترال کے دوردراز علاقوں میں پاکستان پوسٹ کے زیر اہتمام ڈاک کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے کیونکہ نواز شریف دور حکومت میں ڈاک کی ترسیل کرنے کے ذمہ دار چھ ملازمین اب تک چترال میں ڈیوٹی دینے کے لئے حاضر نہیں ہوئے جن کا تعلق اپر دیر، لویر دیراور سوات سے بتایاجاتا ہے جبکہ چترال پوسٹل سب ڈویژن کے نام پر اب بھی تنخواہ لے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ پاکستان پوسٹ کا چترال میں سسٹم کی خرابی کی ایک اور وجہ سینئرپوسٹوں پر کم گریڈ کے حامل افراد کی تقرری بھی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ گزشتہ نواز شریف دورمیں پوسٹل سب ڈویژن چترال میں گریڈ2کی میل رنر کی چھ خالی اسامیوں کی سیلیکشن کے لئے منعقدہ انٹرویو میں ایک چترالی امیدوار کو نہیں لیا گیا اور اپر دیر سے محمد یعقوب کو شوغور سے گرم چشمہ کے روٹ پر ڈاک کی ترسیل کے لئے لیا گیا۔ اسی طرح بونی سے استارو کے لئے دیولائی سوات سے فیصل حیات، لال قلعہ دیر لویر سے نثار احمدکو بانگ سے میرگرام کے لئے، پاؤریارخون سے بریپ کے لئے منڈا لویر دیر سے علی خان کو، رائین سے شاگرام کے لئے مایار دیر سے تعلق رکھنے والے عابدالحق کو اور بونی پوسٹ آفس کے لئے چپڑاسی بھی اپر دیر کے فاروق کوبھرتی کئے گئے جوکہ گزشتہ چھ سالوں سے چترال ڈیوٹی پر نہیں آئے۔انہوں نے بتایاکہ حال ہی میں نثٓار احمد اور محمد یعقوب کو ان کے ہوم اسٹیشنوں میں خالی اسامیوں پر تعینات کئے گئے ہیں لیکن چترال میں ان کی اسامیاں خالی ہیں۔ پاکستان پوسٹ کا ایک ریٹائرڈ اہلکار نے بتایاکہ ڈاک کے نظام میں میل رنر کی بنیادی اہمیت ہے جوکہ ڈاک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے پر مامور ہوتا ہے اور میل رنر کے نہ ہونے کی وجہ سے ڈاک کی ترسیل کا نظام منجمد ہونا قدرتی بات ہے۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ ضلع چترال میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پوسٹ آفسز کی اسکیل 14کی اسامی پر اسکیل 9کی خاتون کو اضافی چارج دی گئی ہے جوکہ ضلعی ہیڈ کوارٹرز چترال کی بجائے دروش میں تعینات ہے جبکہ ارندو سے لے کر بروغل تک ڈاک خانہ کے تمام برانچوں کی انسپکشن ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایاکہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پاکستان پوسٹ میں کلیدی اہمیت کی اسامی ہے جس پر یا تو محکمے کے پوسٹ ماسٹر کم از کم 15سال سروس کے بعد پروموشن کے بعد تعینات ہوتے ہیں یا ڈیپارٹمنٹل امتحان پاس کرنے کے علاوہ ایک خاص تناسب میں اسامیوں کو مسابقتی امتحان کے ذریعے پر کئے جاتے ہیں جن میں یونیورسٹیوں سے فارغ امیدوار ایک مشکل امتحان کو پاس کرنے کے نتیجے میں چن لئے جاتے ہیں۔اسی طرح مستوج خاص اور ہرچین کے پوسٹ آفس برانچوں میں گریڈ 11کی اسامی پر گریڈ 2کا پوسٹ مین کام کررہے ہیں جبکہ شاگرام برا نچ خالی ہے۔ اور یہ سب پاکستان پوسٹ کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی بتائی جاتی ہے۔ چترال میں پاکستان پوسٹ کی ان بے قاعدگیوں کے بارے میں جب پوسٹل ڈویژن ملاکنڈ کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ حمید الرحمن سے رابطہ کرکے پوچھا گیا تو انہوں نے میل رنرز کی اسامیوں کے بارے میں خبر کی تردید نہ کرسکے جبکہ خاتون اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی کی بھی تصدیق کی اور کہاکہ وہ دروش میں پوسٹ ماسٹر ہیں جبکہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



