چترال (محکم الدین) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال، بونی، دروش نے بار کے سنیئر رکن سید برھان شاہ ایڈوکیٹ کے ساتھ ایس ڈی پی او بونی کی طرف سے غیر قانونی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اپنے پرائیویٹ گارڈز کے ذریعے اُنہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف ہفتے کے روز عدالتوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک غیر معمولی اجلاس صدر دسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ بار روم میں منعقد ہوا۔ جس میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اور ایک قراراداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا۔ کہ ایس ڈی پی او بونی اور اُس کے نجی گارڈز کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اور فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے۔ جس کیلئے درخواست پہلے ہی ایس ایچ او بونی کو دی گئی ہے۔ مگر اس پر تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے۔ اجلاس میں ایس ڈی پی او کی طرف سے معزز رکن بار کے خلاف نازیبا الفاظ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اور اس کی پُر زور مذمت کی گئی۔اجلاس میں پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسل سے بھی مطالبہ کیا گیا۔ کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ بار چترال سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کریں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


