چترال (محکم الدین) گذشتہ بیس سالوں سے چترال میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کام کرنے والے چترال اینوائرنمنٹل اینڈ ہئیرٹیج پروٹیکشن سوسائٹی(چیپس) کے چیف ایگزیکٹیو رحمت علی جعفر دوست نے خبردار کیا ہے۔ کہ کاغلشٹ فیسٹول کی وجہ سے کاغلشٹ کے میدان میں ٹنوں کے حساب سے بکھرے ہوئے کچروں کو ٹھکانے لگانے کیلئے ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا اور ضلع انتظامیہ نے دو دنوں کے اندر کوئی انتظام نہ کیا تو وہ تا دم مرگ بھوک ہڑتال کا آغاز کریں گے۔ چترال کچہری روڈ پر اپنے احتجاجی کیمپ میں انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ کاغلشٹ میں چار روزہ فیسٹول کی وجہ سے پورا میدان کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ اور سیاحتی مقام بُری طرح ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔ گلے سڑے فالتو اشیا ء اور پلاسٹک کے تھیلے و دیگر گندگی کی وجہ سے شدید تعفن اور بد بو پھیلی ہے۔ جبکہ زہر یلی خوراک کھانے سے کئی مال موشی بیمار پڑ گئے ہیں اور ہلاکتوں کا خد شہ ہے۔ اس لئے فوری طور پر اس سیاحتی مقام کو صاف کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخوا اور ضلع انتظامیہ روایتی بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اور کاغلشٹ و شندور فیسٹول جو پہاڑوں کی بلندیوں پر منعقد کئے جاتے ہیں۔ کی صفائی اور کچروں کو ٹھکانے لگانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ جبکہ یہ علاقے نیشنل پارک کی سی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور یہ سیاحتی مقامات نایاب جنگلی حیات کے مسکن ہیں۔ انہوں اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کہ فیسٹولز میں آتشبازی پر تو لاکھوں روپے اُڑائے جاتے ہیں۔ لیکن اس علاقے کی صفائی پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جا تا۔ جس کے باعث علاقہ بتدریج گندگی کا ڈھیر بنتا جارہا ہے۔ رحمت علی جعفر دوست نے کہا۔ کہ جنگلی حیات کے ہبیٹاٹ میں آتشبازی کرنا بھی ایک غیر سنجیدہ فعل ہے۔ جو کہ باوجود احتجاج کے ہر فیسٹول میں کئے جارہے ہیں۔ جس سے جنگلی حیات نہ صرف خوفزدہ ہوتے ہیں۔ بلکہ بارودی آلودگی کی وجہ سے ان کیلئے اس علاقے میں زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ گذشتہ سال شندور میں 19لاکھ روپے صرف آتشبازی پر اُڑائے گئے۔ لیکن اس مقام پر گندگی اور کچرے کسی کو بھی نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا۔ کہ فیسٹولز میں ان ایونٹس کو شامل نہ کیا جائے۔ جو چترال کے کلچر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا۔ کہ کاغلشٹ فیسٹول میں بزنس کے نام پرکھلے عام جواری کا ماحول بنایا گیا،،اور بچوں تک سے پیسے بٹورے گئے ۔ انہوں اس قسم کے کاروبار کرنے والوں کو فیسٹول سے روکنے مطالبہ کیا۔ جو چترال کے نوجوان نسل پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ وہ گذشتہ بیس سالوں سے کلین اینڈ گرین پاکستان کانعرہ لے کر چترال بچاؤ پاکستان بچاؤ مہم میں سرگرم عمل ہیں۔ اور حال ہی میں ملک کے تمام شہروں میں اس آگہی نعرہ کو لئے پھر کر واپس آئے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جہاد اُن کی زندگی کا مقصد ہے۔ لیکن اُنہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔ کہ ذمہ دار ادارے اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا۔ کہ فوری طور پر کاغلشٹ کو صاف کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ بصورت دیگر وہ اس حوالے سے بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


