چترال (محکم الدین) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ اور سی اینڈ ڈبلیو چترال کی نا اہلی اور غفلت کی وجہ سے چترال بونی روڈ سفر کیلئے ایک خطرناک ترین سڑک بن گیا ہے۔ جس میں آئے روز کے حادثات معمول بن گئے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دونوں اداروں کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی۔ کہ لوگ کس مصیبت سے دوچار ہیں۔ اپر چترال کے رابطے کا واحد ذریعہ چترال بونی روڈ جو ایک طرف پہاڑی تودے و پتھر گرنے اور مناسب مرمت نہ ہونے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے تو دوسری طرف فائبر اپٹیک بچھانے کیلئے سڑک کے سائڈوں پر کھدائی کرکے ملبہ سڑک پر ڈال کر اسے مزید سفر کیلئے مشکل بنا دیا گیا ہے۔ فائبر آپٹیک کیبل کیلئے جو پائپ کھدائی شدہ چینل کے اندر دفن کر دیا گیاہے۔ اس کی صحیح معنوں میں بھرائی اور کمپکشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ موت کا کنواں بن گیا ہے۔ جس میں مسافر گاڑیاں اور ٹرک آئے دن حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔ اور مسافروں کا وقت بھی ضائع ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ایس ڈی او پی ٹی سی ایل چترال فضل ربی نے رابطہ کرنے پر میڈیا کو بتا یا۔ کہ اپر چترال میں فائبر اپٹیک بچھانے کیلئے کھدائی کا کام پی ٹی سی ایل کے ٹھیکہ دار کے ذمے ہے۔ جبکہ ملبے کو دوبارہ کھدائی شدہ چینل میں ڈالنے کے بعد کمپیکشن کی ذمہ داری سی اینڈ ڈبلیو چترال کی ہے۔ جس نے چترال سے برنس کیلئے 40لاکھ روپے اور برنس سے اپر چترال ایریا کیلئے 45 لاکھ روپے ایڈوانس میں وصول کئے ہیں۔ جن کی آدائیگی بذریعہ چیک گذشتہ سال کے ماہ اکتوبر اور حالیہ سال کے ماہ جنوری میں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ کھدائی اور پائپ بچھانے کا کام آخری مرحلے میں ہے۔ صرف 700میٹر کا کام باقی ہے۔ ایس ڈی او پی ٹی سی ایل نے کہا۔ کہ ابتدائی طور پر جب کام کا آغاز کیا جارہا تھا۔ تو سی اینڈ ڈبلیو نے اس شرط پر این او سی جاری کی۔ کہ کمپیکشن کے بل کی آدائیگی سی اینڈ ڈبلیو چترال کے نام کیاجائے ۔ جس پر یہ کام سی اینڈ ڈبلیو کو دیا گیا۔ اب اس روڈ کو صاف اور کمپیکٹ کرنے کی تمام تر ذمہ داری سی اینڈ بلیو پر عائد ہو تی ہے۔ اس سلسلے میں جب سی اینڈ ڈبلیو کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی۔ تو ذمہ دار آفیسران سے رابطہ نہ ہوسکا۔ درین اثنا اپر چترال کے عوامی حلقوں نے سی اینڈ ڈبلیو چترال اور پی ٹی سی ایل کو خبردار کیا ہے۔ کہ سڑک سے ملبہ ہٹا کر صاف اور صحیح معنوں میں کمپیکٹ کرکے اپر چترال کے لوگوں کے حوالے کیا جائے۔ بصورت دیگر خراب سڑک کی وجہ سے کسی بھی قسم کے نقصان کی تمام تر ذمہ داری دونوں اداروں پر ہوگی۔ انہوں نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور صوبائی حکومت سے بھی پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ اپر چترال کے واحد مین سڑک کی خراب حالت کا نوٹس لیا جائے۔ تاکہ مسافروں کی جانیں محفوظ ہو سکیں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



