آج شب برات تھی۔۔رسول مہربان ﷺ نے فرمایا۔اس رات اللہ پہلے آسماں پہ نزول فرماتے ہیں۔اس سال کے لئے مخلوقات کاسارا حساب کتاب تیار کیا جاتا ہے یعنی بجٹ ہوتی ہے۔اس رات جو جیسا مانگے ویسا ملتا ہے۔رسول مہربان ﷺ مخبر صادق ہیں۔اللہ رحیم و کریم زات ہے۔جو مانگا جائے عطا کرتا ہے۔۔انسان ناشکرا ہے مانگتا ہی نہیں۔در در کی ٹوکریں کھاتا ہے مگر اس غنی کے در پہ دستک نہیں دیتا۔مجھ گناہ گار نے سوچا کہ آج رات خوب مانگی جائے۔۔خوب التجائیں کی جائیں۔دینے والادے گا۔گناہوں پہ ندامت اختیار کی جائے۔اپنی کمزورویوں پہ رویا جائے۔اس کی رحمتوں پہ سجدہ شکر بجا لایا جائے۔اس کی دائین کا اعتراف کیا جائے۔یہ حق بندگی ہے۔یہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق کی پہچان ہے۔ندامت کے ایک آنسو کا آنکھ سے گرنے کی دیر ہے۔ ورنہ تو رحمت منتظر ہے۔میرا گناہ گار سر سجدے میں گرا۔میں نے سوچا یا اللہ مانگنا بھی نہیں آتا کیا مانگوں۔۔یا اللہ مجھے رزق حلا ل عطا کر۔۔یاا للہ مجھے امن سے نواز دے۔میری بے سکونیاں دور کر۔یا اللہ مجھے گھر آنگن سے نواز دے۔میرا کوئی گھر نہیں۔۔میرے آقا میں بے روزگار ہوں۔مجھے باعزت روزگار عطا کر۔میرے پاس پیسے نہیں مجھے پیسے دے دے۔میرے پاس سواری کے لئے کوئی ذریعہ نہیں مجھے زاتی گاڑی دے دے۔یا اللہ ہر کہیں جاؤں تو میری عزت ہو مرتبہ عطا فرما۔کوئی عہدہ کوئی حیثیت عطا کر۔اولاد خوشحال ہوں۔رشتے ناطے جڑے رہیں۔یا اللہ دریاوٗں میں طغیانی نہ ہوں۔۔برفانی تودے نہ گریں۔۔طوفانی بارشیں نہ ہوں۔۔جنگلوں میں آگ نہ لگیں۔۔کہیں گاڑیوں کی اکسیڈنٹ نہ ہوں۔۔زلزلہ نہ آئیں آندھیاں نہ چلیں۔میرے آقا میرا دین ایمان سلامت رکھ۔ مجھ میں انسانیت سے محبت،امن،سلامتی کے ساتھ رہنے کی صلاحیت پیدا ہوں۔میں ان دعاؤں میں مصروف تھا کہ کہیں سے آواز آئی کہ۔۔نادان انسان اپنی التجاؤں پہ غور کر۔۔یہ سب زاتی ہیں یہ اپنے لئے ہیں۔تو اپنے رب سے اپنی پہچان مانگ۔ تمہاری پہچان تمہاری پاک سر زمین ہے۔ان سب خوشحالیوں،سکوں،امن،عافیت اور ترقی کی اصل یہ ہے اس کومانگ۔۔وہ اس مہربان رب کی طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ پہلے اس تحفے کا شکر ادا کر۔۔پھر نادان انسان اس کی سلامتی کی بھیک پہلے مانگ۔۔اگر یہ سلامت ہے تو یوں سمجھو کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے۔۔امن اکیلے تمہارے گھر میں نہیں آتا۔۔اگر امن آتا ہے تو پہلے اس کی سرحدوں سے ہوتا ہو ااس کے شہروں میں آتا ہے پھر اس کے اداروں میں گھستا ہے۔پھر اس کی گلی کوچوں سے ہوتا ہوا تمہارے گھر انگن تک پہنچتا ہے۔۔تو خوشحالی مانگتا ہے۔۔یہ خوشحالی صرف احسا س کا نام نہیں۔یہ اس کی سرحدوں سے ہوتی ہوئی تم تک پہنچتی ہے۔تو باعزت روزگار مانگتا ہے یہ ا س سر زمین سے وابستہ ہے اگر یہ پاک سر زمین سلامت ہے تو اس میں راج مزدوری بھی بہت بڑے عہدے سے بہتر ہے۔۔یہ سر زمین تمہاری ماں ہے اس پہ سر رکھو۔تو پیسہ مانگتا ہے۔یہ دھن دولت اس سے وابستہ ہے۔۔تجھے اس کا باشندہ ہونے پہ فخر ہوگا تو اس انعام میں اللہ تجھے ہر لمحہ سلامت رکھے گا۔دیکھو یہ بڑی قربانیوں سے حاصل ہوئی۔یہ سر زمین پاک ہے۔۔ ہر لحاظ سے پاکزہ گی مانگتی ہے۔۔سوچوں کی،خیالوں کی،خدمات کی،حفاظت کی پاکز ہ گی۔دیکھو اپنے ارد گرد سب اپنے ملک پہ فخر کرتے ہیں۔۔یہودیوں کواسرائیل پسند ہے۔۔چائنیز کو چین پسند ہے۔کورین کو کوریا پسند ہے۔۔امریکن امریکہ پہ مرتے ہیں۔ہندو جیے ہند بولتے ہیں۔۔تو بول”پاکستان زندہ باد“ پھر اس پہ قائم رہ۔۔تمہاری دعا پاکستان ہو۔۔ تمہاری آرزو پاکستان ہو۔۔تمہاری زندگی ،تمہاری شان پاکستان ہو۔۔تو اس سے ٹوٹ کر وفا کر۔۔۔تو اپنی ہرپہچان اس سے وابستہ رکھ۔۔دیکھو اس سمے تمہاری سب سے اولین دعا تمہارے پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی ہے۔۔دیکھو دشمن کی کوششیں دیکھو وہ اس کو کمزور کرنے کی سوچ رہا ہے۔کبھی فضائی سٹرائیک کا سوچتا ہے۔۔کبھی نفسیاتی کا سوچتا ہے۔۔کبھی دہشت پھیلاتا ہے۔۔کبھی نفرت پھیلاتا ہے۔تمہارے حکمرانوں کو عیاشیوں میں ڈالتا ہے کسی سے جائیدادیں بنواتا ہے۔۔کسی کو کرسی کی لالچ دے کر اس کے ذہن سے اس ملک کی خدمت بھلادیتا ہے ۔۔زاتی اعراض و مقاصد اڑے آتے ہیں۔ایک دوسرے سے کرسی چھینے کی کوشش میں کچھ بھی کرنے کوتیار ہوتے ہیں۔۔تو اپنے رب سے التجا کر۔۔کہ ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔۔اتنا طاقتور۔۔ اتنا طاقتور۔۔ کہ دشمن لرزہ بر اندام ہوجائے۔حاسد انگشت بدنداں ہو جائے۔۔سٹرائیک کا خواب دیکھنے والوں کے دانت کھٹے ہو ں۔۔اس کے لیڈروں کو توفیق دے کہ اس کی خدمت کو عبادت سمجھیں۔۔اس کے باشندوں کو توفیق دے کہ اس سے محبت کو عبادت سمجھیں۔۔اس کے محافظوں کو غیرت کا پتلابنا دے۔دعا کر کہ کوئی قدرتی آفت اس کی طرف نہ پھٹکے۔یہ اللہ کے نام سے بناہے اللہ اس کی حفاظت کرے گا۔۔لیکن یاد رکھ کہ کہیں مہربان اللہ تیری غیرت کا امتحان نہ لے۔۔رب کا امتحان کڑا ہوتا ہے۔۔دعا کر کہ یہاں کی حکومتیں مستحکم ہوں۔۔یہاں کے ادارے فعال ہوں۔۔یہاں سے ہر قسم کی بدعنوانی،بد نیتی،اقربا پروری اور منافقت ختم ہو جائے۔۔ یہ دعا کی قبولیت کی رات ہے اللہ تیری دعا قبول کرے گا۔۔میں نے سر اٹھایا اور ساتھ ہاتھ اٹھایا۔۔میرے آقا میری پاک سر زمین کو سلامت رکھ۔۔یہاں کی حکومت مضبوط بنا۔۔یہاں کے لیڈروں کو غیرت دلا کہ اس کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں ۔۔اس کے دشمنوں کو نیست نابود کر۔۔پھر میری اپنی دعائیں میرے آنسوؤمیں بہ گئیں۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



