پشاور(نمائندہ چترال میل)صوبائی حکومت مزید کئی بی ایچ یو ز(BHUs) کو پرائیویٹائز یا کسی بھی NGO کو دینے سے پہلے چترال کے منتخب نمائندوں اور علاقہ کے عوام کی رائے لے کسی NGO کے ہیلی کاپٹر میں سیر و سیاحت کے عوض عوام کو مشکلات سے دو چار نہ کیا جائے گرم چشمہ اور لٹکوہ کے ہسپتال کو NGO کے حوالہ کر کے وہاں کے مکینوں کو سابقہ حکومت نے اذیت میں مبتلا کیا ہے عام ہسپتالوں میں 10 روپے فی پرچی فیس لی جاتی تھی اب این جی او کے حوالہ کیے گئے ہسپتالوں میں 500 روپے لی جاتی ہے اگر بونی ہیڈ کوارٹر ہسپتال اپر چترال کو کسی کے حوالہ کیا گیاجو کہ سننے میں آ رہا ہے اور چیف سیکرٹری کا دورہ صرف اس لئے کرایا گیا تو اس کے خطرناک نتائج بر آمد ہوں گے لہٰذا صوبائی حکومت حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے گرم چشمہ اور تور کہو کے دونوں ہسپتالوں کو واپس اپنی تحویل میں لے لے ان خیالات کا اظہار ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایک اخباری بیان میں کیا ہے انہوں نے کہا کہ تو رکہو اور گرم چشمہ کے عوام پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے سے قاصر آچکے ہیں اور ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ان دونوں ہسپتالوں کو محکمہ صحت خیبر پختونخوا واپس لے کر اپنی تحویل میں چلائے تاکہ عوام کو سستی صحت کی سہولت میسر آسکے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


