ضلع چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کا نو ٹفیکیشن پورے چترالی قوم کیلئے بہت بڑی خوشخبری تھی۔ ویسے تو وطن عزیز پاکستان میں آئے روز نا اُمیدی، مایوسی اور دل شکنی کی نت نئی خبریں پھیلتی ہیں۔ لیکن چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کی خبر ایسی زبردست خبر تھی جسے سن کر نا اُمیدی کی بجائے اُمید، جوش و جذبہ اور نیا ولولہ پیدا ہوا۔ چترالی قوم یہ سوچنے لگی۔ کہ ان کا بھی کوئی خیر خواہ ہے۔ پاکستان میں میرٹ پر فیصلے بھی کئے جا سکتے ہیں۔ یہاں قانون کی بالا دستی نظر آسکتی ہے۔ تقسیم کے حوالے سے جہاں کریڈٹ کا تعلق ہے۔ اس میں دو رائے ک کوئی گُنجائش نہیں ہے۔ کریڈٹ پی ٹی آئی کی قیادت اور صوبائی حکومت کو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں ہونا چاہیے۔ چترالی عوام نے نہ پہلے پی ٹی آئی حکومت میں اپنا کوئی منتخب نمایندہ بھیجا تھا نہ حالیہ انتخابات میں کوئی نمایندہ دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نے چترال سے ایک خاتون کو ممبر صوبائی اسمبلی منتخب کرکے اس کے ذریعے سے چترالی عوام کی بھر پور خدمت کی تھی۔ اس بار پی ٹی آئی نے اقلیتی مخصوص سیٹ پر کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاسی شخصیت وزیر زادہ کو اقلیتی رکن اسمبلی منتخب کرکے پوری چترالی قوم، کالاش قبیلہ اور تینوں کلاش وادیوں کے لوگوں پر احسان کیا۔ اس فیصلے سے حقیقی معنوں میں انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔ جہاں تک وزیر زادہ کے کرئیر کا تعلق ہے۔وہ ایک مسلسل جدوجہد کی کُھلی داستان ہے۔ موصوف اپنے کردار کی وجہ سے کالاش ویلیز کے عوام میں اور حسین و جمیل سرزمین ایون کے عوام میں بے حد مقبول اور معقول شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اپنے خدمت خلق کے ذریعے اس علاقے میں ایک خاص مقام بنایا۔ اس کی شخصیت کا ایک خاص پہلو یہ ہے۔ کہ وہ ذات پات اور قوم قبیلے پر یقین نہیں رکھتے۔ اور سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس وجہ سے اللہ پاک کی مہربانی اور عوام کی دُعاؤں کی برکت سے آئے روز ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ وزیر زادہ جب سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ گھر کا رُخ نہیں کیا۔ دوست احباب سے یہی بات کرتے ہیں کہ خالی ہاتھ چترال نہیں آؤنگا۔ جبتک مجھے چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کا نوٹفیکیشن نہیں دیا جاتا۔ میں قومی ایشو پر پہلے بات کرونگا۔ پارٹی قیادت کے وعدے سچ ثابت کرکے چترال آؤنگا۔ اس بات پر مخالفین یہ کہتے تھے۔ کہ یہ چھوٹی منہ بڑی بات کے مصداق ہے۔ وزیر زادہ کے اتنے اوقات نہیں۔ کہ وہ یہ کام کر سکیں۔ لیکن بہت کم عرصے میں وقت نے ثابت کر دیا۔ کہ وزیر زادہ میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ یہ ایک عزم تھا ایک حقیقت تھی۔ اس میں ایک خاص سبق تھا۔ ان سیاسی لیڈروں کیلئے جو خود کو سیاسی پنڈت سمجھتے ہیں۔
چترالی قوم کی ہمیشہ سے یہ بد قسمتی رہی ہے۔ کہ ہم ہمیشہ حسب اختلاف بینچ کیلئے ممبران اسمبلی منتخب کرتے ہیں۔ مرکز اور صوبے میں چاہے جس کی بھی حکومت ہو۔ ہمارا نمایندہ اُس کے مخالف بینچ میں بیٹھتا ہے۔ اس لئے چترال میں اعلی تعلیم یافتہ افرادی قوت اور امن و آشتی کی عظیم نعمت کے باوجود ہم ترقی کے لحاظ سے دوسرے اضلاع سے بہت پیچھے ہیں۔ اس کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ بحر حال کمی و کوتاہی کے باوجود ہمارے لئے بہت بڑا فیصلہ کرنا پی ٹی آئی کی زبردست سیاسی فتح ہے۔ اس پر پوری چترالی قوم وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی وژن اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی بصیرت اور ایم پی اے وزیر زادہ کی انتھک محنت کو سلام کرتی ہے۔ اور ان سے مزید خدمت کی توقع رکھتی ہے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



