چترال (نمائندہ چترال میل) کالاش ویلی بمبوریت کے سیلاب متاثرین نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان،چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ سے پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ سیلاب سے کالاش ویلی بمبوریت کے تین دیہات کندیسار، بتریک اور کراکال کے متاثرہ آبپاشی نہروں کی بحالی میں اُن کی مدد کی جائے اور جو امدادی اشیا ء ہنگامی بنیادوں پر متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں مزید فوڈ پیکیج کے ساتھ بسترے اور دیگر گھریلو ضرورت کی اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے کیونکہ متاثرہ گھروں کے سامان سیلاب میں بہہ گئے ہیں یا بُری طرح خراب ہونے کی وجہ سے نا قابل استعمال ہیں۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے سیلاب کے بعد ہنگامی بنیادوں پر ٹینٹ اور خوراک کی اشیاء بطور امداد فراہم کرنے پر ڈپٹی کمشنر چترال ، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ آفیسرو اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ فوری نوعیت کے اس ا مداد پر ہم حکومت اور متعلقہ آفیسران کے شکر گزار ہیں لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں دیہات میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔ کیونکہ واٹر سپالائی سکیم بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس لئے خواتین اور بچوں کو دُور دُور جاکر چشموں یا نالہ بمبوریت سے پانی لا نا پڑتا ہے اسی طرح آبپاشی نہر وں کو سیلاب بہا لے گیا ہے اور بعض نہریں ملبے سے بھر گئے ہیں۔ جن کی صفائی حکومتی امداد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے پُرزور مطالبہ ہے کہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ذریعے اُنہیں بحال کرنے کیلئے فنڈ فراہم کرے۔ تاکہ مکئی اور گندم کی فصل کی مزید تباہی سے پہلے آبپاشی نہریں بحال کی جا سکیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اُن کی مشکلات کا ادارک کیا جائے گا۔ اور اس مشکل سے نکالنے کیلئے بھر پور طریقے سے اُن کی مدد کی جائے گی متاثرین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کالاش ویلی بمبوریت میں قابل کاشت زمین انتہائی کم ہے۔ اور دستیاب زمینات پر کاشت کی گئی فصلین سیلاب سے بُری طرح خراب ہوئی ہیں۔ جبکہ متاثرین زمینات کا مکمل انحصار کھیتی باڑی سے پیدا ہونے والی فصلوں پر ہے۔ جو کہ ضائع ہو گئی ہیں۔ اور جو بچ گئی ہیں۔ اُن کیلئے پانی دستیاب نہیں۔ اس لئے زمینات اور فصلوں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ اور زمینات کو دوبارہ قابل کاشت بنانے کیلئے زرعی مشینری کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کیا جائے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



