چترال (محکم الدین) سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کے بعد اُن کی طرف سے قومی اسمبلی NA-1چترال کی نشست کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی تیاریاں آخری مر حلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ چترال کے فوکل پرسن اور ڈسٹرکٹ فنانس سیکرٹری وقاص احمد ایڈوکیٹ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ کہ سابق صدر پرویز مشرف الیکشن 2018میں چترال سے قومی اسمبل کی نشست کے امیدوار ہیں۔ اور اُن کے کاغذات نامزدگی مکمل ہو چکے ہیں،صرف جنرل کی طرف سے بیان حلفی کا انتظار ہے۔ جس کے وصولی کے ساتھ ہی کاغذات نامزدگی داخل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ صدر مشرف چترال کی سیٹ میں انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور چترال کے لوگوں کے ساتھ اُن کی والہانہ محبت ہے۔ جس کا ثبوت لواری ٹنل کی تعمیر کی صورت میں موجود ہے۔ وقاص احمد نے کہا۔ کہ صدر مشرف رابطے میں ہے۔ اور چترال سے الیکشن لڑنا اُن کی دلی خواہش ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ پرویز مشرف کے علاوہ پارٹی کے ضلعی صدر سلطان وزیر خان NA-1چترال اور PK-1چترال کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کر رہے ہیں۔ جبکہ صوبائی اسمبلی PK-1کیلئے شہزادہ امیرالحسنات اور سلطان محمود کی طرف سے بھی کاغذات نامزدگی داخل کئے جائیں گے۔ اسی طرح ایون سے تعلق رکھنے والے حاجی عبدالرحمن کی طرف سے کاغذات نامزدگی برائےPK-1داخل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ فارم حاصل کرنے سے متعلق کسی پر کوئی پابندی نہیں۔ تاہم پارٹی کے نام پر وہی امیدوار الیکشن لڑ سکتا ہے۔ جسے پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے۔ درین اثنا سابق صدر پرویز مشرف کے چترال سے الیکشن لڑنے کی اطلاعات کے بعد سیاسی ماحول میں بتدریج گرمی پیدا ہورہی ہے۔ اور مختلف پارٹیوں کے امیدوار اس سے کافی خائف دیکھائی دے رہے ہیں۔ اور اُن کو اس بات کا اب بھی یقین نہیں ہے۔ کہ پرویز مشرف کو پاکستان میں الیکشن مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن پرویز مشرف کی چترال کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر کھڑے ہونے کی صورت میں نتائج میں غیر معمولی تبدیلی کے امکانات بھی موجود ہیں۔ نیز پرویز مشرف کی چترال سے انتخابات میں حصہ لینے کی صوت میں چترال ملک بھر میں اور بیرونی دنیا میں بھی اہمیت حاصل کرنے امکانات ہیں۔ چترال میں گذشتہ الیکشن میں آل پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے شہزادہ افتخارالدین ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ اور تاحال انہوں نے آل پاکستان مسلم لیگ سے باقاعدہ علیحدگی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم چترال کے مسائل کے حل کیلئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریب ہونے کی وجہ سے الیکشن 2018کیلئے اُن کو مسلم لیگ کی طرف سے امیدوار برائے قومی اسمبلی ٹکٹ دینے کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن ابھی تک خود شہزادہ افتخار الدین کی طرف سے کسی بھی پارٹی کے پلیٹ فارم سے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



