(چترال میل رپورٹ)خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے بعض اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پرشائع یانشر ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کمیشن کی جانب سے 29 جنوری سے 02۔فروری 2018 تک کمیشن کی جانب سے منعقد ہونے والے سیکریننگ اور ایبلٹی ٹیسٹ سے متعلق غیر مصدقہ رپورٹس کا تذکرہ کیاگیاہے۔اصل صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے سیکرٹری خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن نے بتایا کہ مذکورہ ٹیسٹ تقریباً235000 امیدواروں کی آزمائش اور تجزیئے کے لئے صوبے کے سات ڈویژنل ہیڈکوارٹرز سوات، مردان، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، اورایبٹ آباد کے 114 مراکز میں منعقد کئے گئے تھے جبکہ کمیشن نے عام لوگوں اورتمام امیدواروں کی اطلاع کے لئے کہاہے کہ اس تمام عمل کو خفیہ رکھنے اور اس کے تقدس کو اس حد تک یقینی بنایا گیا کہ پرچوں کے شیڈول کے وقت سے پہلے مذکورہ ٹیسٹ کا کوئی پرچہ لیک یامنظر عام پر نہیں آیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ تحصیل میونسپل آفیسر (BS-17) کی پوسٹ کے پرچے 31۔جنوری 2018 کومنعقد کئے گئے۔جس میں موبائل کے استعمال اوراس کو انٹرنیٹ پراپ لوڈ کرنے کی رپورٹس موصول ہوئیں جبکہ یہ بھی افواہ تھی کہ10۔بجے صبح اوردو بجے دوپہر کو منعقد ہونے والے پرچے ایک جسیے ہی تھے۔ تاہم اخبارات اورنیوز چینلز پر شائع اور نشر ہونے والی ان خبروں میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ مذکورہ پرچے امتحان کے شروع ہونے سے پہلے لیک ہوچکے تھے جبکہ یہ بات بھی درست نہیں کہ دس بجے صبح اوردوبجے دوپہر کو منعقد ہونے والے پرچے ایک جیسے تھے۔ درحقیقت بعض امیدواروں نے موبائل پر سوالیہ پرچوں کی تصویریں لے کر انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیلادیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ مذکورہ امتحان کے دوران موبائل کے استعمال پرسختی سے پابندی تھی جبکہ معاملہ بے ضابطگی اور ناجائز ذرائع کے استعمال کا ہے اوراس ناجائز عمل میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ مزید برآں تمام ٹیسٹ عمومی طورپرپُرامن ماحول میں منعقد کئے گئے تاہم BISE ہال ایبٹ آباد کے سیکریننگ ٹیسٹ، بعض امیدواروں کے ناموں کی آنسرشیٹس پرمعدوم چھپائی کے باعث منسوخ کردیئے گئے۔انہیں بلینک آنسرشیٹس فراہم کی گئی تھیں۔لیکن انہوں نے بے چینی اوراضطراب کامظاہرہ کیا اوردوسرے امیدواروں کوبھی امن وسکون سے اپنے پرچے حل کرنے نہیں دیا اورپرچے منسوخ کرنے پر اصرار کیا۔ کمیشن کے نمائندے نے یہ معاملہ چیئرمین خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے نوٹس میں لایااور ایبٹ آباد مرکزکایہ مخصوص پرچہ منسوخ کردیاگیا۔ اس مخصوص امتحانی مرکز کاایبلٹی ٹیسٹ 10۔فروری 2018 کو پشاور میں دوبارہ منعقد کرنے کا شیڈول جاری کردیا گیاہے جبکہ شرپسند عناصر کے خلاف معاملات کودرست کرنے کے لئے تادیبی کاروائی کی جارہی ہے تاکہ ہرقسم کی بدعنوانی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات دوبارہ نہ ہوں۔اس امرکا اعلان سیکرٹری خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کیاگیا۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



