سیٹھ،ساہوکار اور پی آئی اے
ایک بار پھر خبر آئی ہے کہ حکومت نے پی آئی اے کا خسارہ پورا کرنے لئے 13 ارب روپے کا ”بیل آوٹ پیکچ“تیا رکیا ہے انگریزی زبان میں ”خیرات“کو بیل آوٹ پیکچ کہتے ہیں پی آئی اے کی مثال ایک دکان،ہوٹل اور ریستوران کی ہے جس میں کاروبار کرکے منافع کمانا چاہیے اور سال بعد حکومت کو 100ارب روپے یا 200ارب روپے کا منافع دینا چاہیے پی آئی اے ہر چھ ماہ بعد خسارے میں جاتی ہے حکومت سے خسارہ پورا کرنے کیلئے خیرات مانگتی ہے حکومت سال بھر میں 40ارب یا 60 ارب روپے کی خیرات دیکر پی آئی اے کو خسارے سے نکالتی ہے کبھی پائیلٹ کسی جرم میں یورپ یا امریکہ کے کسی ائیر پورٹ پر پکڑا جاتا ہے تو پاکستان کی بد نامی ہوتی ہے کبھی اس کی ائیر ہوسٹس ہیرو ئن سمگل کرتی ہوئی پکڑی جاتی ہے تو پیا را ملک پاکستان بد نام ہوتا ہے کیونکہ پی آئی اے کے نام کا پہلا لفظ پاکستان ہے گذشتہ 20 سالوں میں 4 بار پی آئی اے کی نجکاری کا منصوبہ آیا مگر اپوزیشن اور عدالت نے منصوبے کو ناکام کیا چنانچہ حکومت اس بوجھ کو کندھے پر جنازے کی طرح اُٹھائے پھرتی ہے اگر پی آئی اے کی نجکاری ہوگئی سیٹھ ساہوکار نے اس کو خرید لیا تو پہلے چھ مہینوں میں سیٹھ کو 20 ارب روپے کا منافع ملے گا ہر 6 ماہ بعد منافع کی شرح بڑھتی رہے گی دنیا بھر کی فضائی کمپنیاں اس طرح کاروبار کرتی ہیں کوئی فضائی کمپنی حکومت یا کسی سیٹھ سے خیرات مانگ کر نہیں چلتی پرائیویٹائزیشن یا نجکاری اس طرح کی ناکامیوں اور نامرادیوں کا واحد حل ہے مگر کیسے؟یہ بات قابل غور بھی ہے باعث عبرت تھی حبیب بینک سرکاری تحویل میں تھا تو خسارہ دکھاتا تھا ٹیلیفون کا محکمہ سرکاری تحویل میں تھا تو خسارہ دکھاتا تھا گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس یعنی جی ٹی ایس کے نام سے سرکاری ٹرانسپورٹ کمپنی ہر سال خسارہ دکھاتی تھی آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی حکومت تھی خالد عزیز ایڈ یشنل چیف سکرٹری تھے ترقی اور مالیات کے محکمے اُس کے ماتحت تھے جی ٹی ایس کے خسارے پر میٹنگ بلائی گئی خالد عزیر نے شستہ انگریزی میں جی ٹی ایس کے ایم ڈی سے دو سوالات پوچھے پہلا سوال یہ تھا کہ جمرود،شاہ کس اور لنڈی کوتل کا ان پڑھ یا نیم خواندہ حاجی ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں خسارہ نہیں کرتا حکومت کے پڑھے لکھے،تربیت یافتہ افیسر ہر سال خسارہ کیوں دکھاتے ہیں؟دوسرا سوال یہ تھا کہ نوشہرہ اور مردان میں یہ بات کیوں مشہور ہے کہ جی ٹی ایس کی بس کا ایک ٹائر ڈرائیور کیلئے،دوسرا ایم ڈی کیلئے،تیسرا ورکشاپ منیجر کیلئے چوتھا کلینر کیلئے چلتا ہے حکومت اور مسافروں کیلئے کوئی ٹائر نہیں ہے ایم ڈی لاجواب ہو ا تو خالد عزیز نے پوچھا اگر ہم جی ٹی ایس کی پرائیوئزیشن کرینگے تو تمہار ا کیا رد عمل ہوگا؟ ایم ڈی نے کہا ملازمین ہڑتا ل کرینگے خالد عزیز نے کہا ہم ایسا ہونے نہیں دینگے ایم ڈی بولا ملازمین عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرینگے اور اپنا مقدمہ لڑینگے خالد عزیز نے کہا اس کا حل میر پاس ہے جی ٹی ایس کی سروس بند کر دی گئی،بسوں کو نیلا م کر دیا گیا،املاک کو فروخت کر دیا گیا ہر چھ ماہ بعد خسارے والی بات ختم ہوگئی سیٹھ کو نوکری میں ملازم پراگرس دکھائے گا تو نوکری کے گا پراگرس نہیں دکھائے گا تو گھر چلا جائے گا پی آئی اے کا یہی حل ے دوسرا کوئی حل نہیں اور اس معاملے میں پی آئی اے جیسے ادارے اور بھی ہیں مثلا ًواپڈا ہے،سٹیل ملز ہے 23 سرکاری کمپنیاں اور بھی ہیں جو ہر سال خسارہ دکھاتی ہیں ملکی معیشت پر بوجھ کی حیثیت رکھتی ہیں جب بھی اس طرح کی ناکام کمپنیوں سے جان چھڑانے کی تجویز آتی ہے مفاد پرست لوگ سامنے آجاتے ہیں عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر کے رکاوٹ پیدا کر لیتے ہیں اور خسارے کا سارا کاروبار پھر سے چل پڑتا ہے پاکستان کی معیشت پر خسارہ دکھانے والی کاروبای کمپنیوں کو بوجھ بنا کر لا دا گیا ہے اگر 2018 ء میں الیکشن کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے آنے والی حکومت نے ان کمپنیوں کو سیٹھ،ساہوکار کے ہاتھ فروخت کر دیا تو حکومت سالانہ 10 ارب روپے کے نقصانات سے بچ جائیگی اور محاصل کی مد میں حکومت کو سالانہ 400 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہاتھ آئیگی کسی کاروباری کمپنی کو ہر سال خیرات دے کر چلانا ملکی مفاد میں نہیں ہے قومی مفاد کا تقاضایہ ہے کہ ایسی کمپنی سے پہلی فرصت میں جان چھڑائی جائے۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



