قیامت کا نامہ
کاش میرے پاس الفا ظ ہوتے۔۔کاش میرے الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی کہ اس کی محبت کے سمندر کو سمیٹ سکتے۔۔کاش میرے الفاظ میں اتنی خوشبو ہوتی کہ اس کے وجود کو خوشبو سے بھر دیتے۔۔کا ش میرے الفاظ میں اتنی روشنی ہوتی کہ اس کے رُخ انور کو چمکا دیتے۔۔کاش میرے الفاظ کی اتنی خوبصورت آواز ہوتی کہ صبح وشام اس کے حسن کے گیت گاتا۔۔کا ش میرے الفاظ تتلیاں ہوتے۔۔تو پر پھیلا کے اس کے گلاب چہرے کا طواف کر تے۔۔کاش میرے الفاظ خواب ہو تے تو اس کی نیند میں آتے۔۔کاش میرے الفاظ نیند ہوتے تو اس کی پیاری آنکھوں میں آرام کرنے آتے۔۔کاش میرے الفاظ خوبصورت موسم ہوتے۔۔اس کے گاؤں میں آتے اس کو مجھ سے پیار ہوتا۔۔کاش میرے الفاظ اس کے الفاظ ہوتے۔۔وہ بہت خوش ہوتا کہ اس نے خط نہیں لکھا بلکہ الفاظ کا موتی پرویا ہے۔۔اس نے مجھے خط لکھا۔۔اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں۔۔اس کے پیارے دل نے یہ الفاظ سوچا۔۔ اس کی پیاری زبان سے یہ ادا ہوئے۔۔اور اسکی پیاری انگلیوں نے وہ خوش قسمت قلم پکڑی ہونگی۔۔اور اس کی پاکیزہ محبت الفاظ بن کر کاغذ پہ بکھر گئی ہوگی۔۔اس نے لکھا ہے کہ اس کو مجھ سے محبت ہے۔۔اس کو میری محبت کی ضرورت ہے۔۔مجھے اس کے بھول پن پہ بہت پیار آیا۔۔میرا جی بھر آیا۔اگر یہ دل نکال کے دینے کی چیز ہوتی تو میں یہ نکال کے اس کے سامنے رکھتا اور کہتا۔۔۔یہ لو میرے چاند۔۔ دل تمہارے سامنے رکھا۔۔یہ جان اس کے کام آتی تو ہزار بار قر بان کر دیتا۔۔میں اس کو کیسے یقین دلاؤں کہ مجھے اس سے اس سے بھی زیادہ محبت ہے۔۔وہ میری روح میں سمایا ہوا ہے مری روح کی تازگی اس سے وابستہ ہے۔۔وہ سحاب بن کر میری بنجر آرزووں پر برستا ہے۔۔وہ خوشبو بن کر میرے مشام جان کو معطر کرتا ہے۔۔وہ پھول بن کر میری حیات کے چمن کو نکھارتا ہے۔وہ چاند بن کر میرے آکاش کو خوبصورت بناتا ہے۔۔وہ یاد بن کر میرے ماضی کو صورت بخشتا ہے۔۔وہ اُمید بن کر مجھے جینا سیکھاتا ہے۔۔وہ میرے دنوں کی اُلٹ پھیر ہے۔۔وہ میری ساعتوں کی خوشگواری کا ضامن ہے۔۔وہ میری صبح کی ٹھنڈک ہے۔۔وہ میری شام کا سہانا پن ہے۔۔وہ میری راتوں کی خاموشی ہے۔۔وہ مرے دنوں کی ہل چل ہے۔۔وہ میری زندگی ہے۔۔وہ میری دنیا ہے۔۔وہ میرے لئے کھلی کائنات ہے۔۔اس نے اپنی چھوٹی سی پاکیزہ محبت الفاظ بنا کر کاغذ میں محفوظ کیا ہے۔۔اور لا کے میرے سامنے رکھا ہے۔۔میں ان الفاظ کی قیمت لگا تا ہوں تو ہر ہر لفظ میرے لئے میری جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔۔میں ان کی قیمت کیسے ادا کروں۔۔میں ان کو اپنی محبت کے ساتھ تولتا ہوں تو ہر ہر لفظ میری پوری محبت سے بھاری ہے۔۔اور وہ بہت سارے الفاظ ہیں۔۔اب میں اس کو یقین دلانے کے لئے اپنے الفاظ پرکھتا ہوں تو کوئی لفظ اس کو یقین دلانے کے لئے مناسب مجھے نہیں ملتا۔ میں کیا کروں۔۔ اس کو اپنی جان کہوں۔۔تو جان آنی جانی ہے اس کا اعتبار ہی کیا۔۔میں اس کودل کہوں تو دل دھڑکتا ہے۔۔دھڑکنوں کا کیا رُک بھی سکتی ہیں۔۔۔اس کو اپنی روح کہوں۔۔روح بدن سے کسی بھی وقت بے وفائی کر سکتا ہے۔۔زندگی کہوں تو زندگی کا نٹوں کا سیج ہے۔۔میرے پاس الفاظ کہاں ہیں۔۔نہیں ہیں۔۔اس کی محبت کے اظہار کے جواب کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔۔اس نے لکھا ہے کہ اس کو میری محبت کی ضرورت ہے اس کو کیسے سمجھاؤں کہ جتنی اس کی محبت کو مجھے ضرورت ہے اس کو میری محبت کی اتنی ضرورت کہاں ہے۔۔وہ میری روح ہے۔۔روح بدن سے تو جدا نہیں ہوسکتی۔۔وہ کہتا ہے کہ وہ مجھے خوش دیکھ کر خوش رہتا ہے اور افسردہ دیکھ کر آفسردہ ہوتا ہے۔۔میں کوشش کروں گا کہ کبھی اسکے سامنے افسردہ نہ ہو جاؤں۔۔خوش رہنے کا بہانا کروں۔۔پھر اس کے سامنے سے ہٹوں تو رورو کر دل کا بوجھ ہلکا کروں۔۔پھر دل کی تختی پہ اس کا نام آنسووں سے لکھ کر اس کا طواف کروں۔۔اس نے لکھا ہے کہ اس کو مجھ سے محبت ہے۔۔۔ اس کو محبت کی آگ میں جلنے کا تجربہ نہیں اس لئے وہ مجھے اپنی محبت کی شدد کا یقین کس طرح دلائے۔۔اس کا دل صرف دھڑکا ہوگا۔ایک بار یا ایک سے زیادہ بار۔۔اس کے دل کے ہزار ٹکڑے کہاں ہوئے ہونگے۔۔وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا۔۔اس نے مجھے ایک محبت نامہ لکھا ہے۔۔اور مجھے امتحان میں ڈالا ہے کہ میں اس کے محبت نامے کا جواب لکھ سکوں گا کہ نہیں۔۔۔میں نہیں لکھ سکوں گا۔۔اگر مجھے الفاظ ملیں گے بھی تو وہ خوشبو کہاں سے لاؤں گا جو اس کے الفاظ میں ہیں۔۔وہ بھول پن کہاں سے لاؤں جو الفاظ بن کے کاغذ پہ نکھرے ہوئے ہیں۔۔یہ چند الفاظ میری زندگی کے سوغات ہیں۔۔میں سوچتا ہوں۔۔یہ دولت کہاں چھپا کے رکھوں۔۔اس کا خط۔۔اس کا محبت نامہ۔۔اس نے اس لکھنے کے سمے کو ”یادگار لمحہ“ کہا ہے۔۔میں اس کے یادگار لمحوں کوکہاں محفوظ کرکے رکھوں۔۔یہ ساری کائنات بھی مجھے حوالہ کیا جائے تو اس کو رکھنے کے لئے میرے پاس جگہ نہ ہوگی۔۔میں ڈرتا ہو ں کہ کوئی اس کو دیکھ نہ لے پڑھ نہ لے۔۔میں اس کو پوری کائنات کی نظروں سے چھپا کر کہاں لے جاوئں۔۔میں چاہتا ہوں کہ اپنا سینہ چیر کر اس محبت نامے کو اس میں چھپا کے رکھوں جس طرح چاہتا ہوں کہ وہ جو میری روح میں سمائی ہوئی ہے کبھی کسی کی نظروں کے سامنے نہ آجائے۔۔مگر یہ میرا خواب ہے۔۔وہ سب کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔۔ساری نگاہیں اس کا طواف کرتی ہیں۔۔میں جل کر راکھ ہو جاتاہوں۔۔میں اس کو کسی کی آنکھوں سے نہیں چھپا سکتا۔۔البتہ اس کا یہ محبت نامہ چھپانے کی فکر میں ہوں۔۔اللہ اس کی پاکیزہ محبت کو شاداب رکھے۔۔۔۔۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



