الفاظ کی شرینی اپنی جگہ لیکن سامعین اور حاظرین اس کے قہقہے کے منتظر رہتے ہیں۔۔اس کا مزاح اس کے چہرہ انور پر عود آتا ہے ایک تبسم پھیلتا ہے اور پھر قہقہا بلند ہوتا ہے پھر شاعری آتی ہے۔۔مصرع پہ مصرع شگفتہ ہوتے ہیں مشاعرہ کمال کا پڑھتا ہے اور لوٹ لیتا ہے۔۔شاعر شگفتہ گلو ہے۔۔۔نام شیر علی خان ہے “درانی” تخلص رکھا ہے پتہ نہیں یہ خاندانی کوٸی نام ہو۔۔ہونٹوں پہ تبسم، بذلہ سنج، کاٹ کے جملے اگرکوئی چھیڑے تو پھٹ پڑے اور مقابل ان کے قہقہوں میں کہیں بے نام و نشان ہوجاۓ۔۔سیلقے سے بال بناۓ درمیانے قد کے وجیہ صورت، رشک قمر، ظالم بڑے قابل، قلم میں طاقت، کراچی کے پڑھے لکھے۔۔ظالم اگر انگریزی ڈرافت کرنے پہ آجاۓ تو دیکھنے والا عش عش کر اٹھے۔۔محکمہ مالیہ میں کلرک بھرتی ہوۓ پھر محکمہ خوراک میں آگئے وقت سے پہلے پنشن لی اور گھر بیٹھیا ہوگئے۔۔پشاور اسلام آباد میں رہائش۔۔۔موڈ بنے تو سردیوں میں شہروں کو سدھارے اور گرمیاں اپنے گاٶں اوی پچھیلی اپر چترال میں گزارے۔۔۔گھر رشک جنت،روایتی۔۔۔بڑے مہمان نواز ٹہھرے۔۔۔یاروں کا یار سب کو دعوت عام وطعام دے۔۔۔شیر علی خان درانی کھوار شاعری میں خوش گوار اضافہ ہیں۔۔۔مشاعروں میں آتے ہیں تو محفل لوٹ لیتے ہیں۔ان کی شخصیت کرشماتی ہے۔۔بے دلکش خد و خال ہیں نشیلی آکھیوں پہ عینک لگاتے ہیں۔غزل کوٹ کے اوپری جیب میں ہوتی ہے سامعین پہ سحر طاری کر دیتے ہیں۔۔۔درانی بڑے ٹکسالی شاعر واقع ہوۓ ہیں۔۔کھوار کے اصل خوبصورت الفاظ استعمال کرتے ہیں۔۔معاملہ بندی شعری صفت ہے۔۔محبوب کی تعریف ٹوٹ کے کرتے ہیں۔غزلوں میں رنگ تغزل نمایان ہوتاہے۔معاشرے کے لیے اصلاحی نظم بھی لکھتے ہیں۔۔نظم مزاح سے بھر پور ہوتی ہے محفل زعفران زار ہوتی ہے لیکن ایک بڑا پیام نظم میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔درانی زبان و بیان کا درک رکھتے ہیں خیال بلند رکھتے ہیں۔ہر محفل میں حاضری دیتے ہیں اور شوق اور انہاک سے ادب کی خدمت کرتے ہیں وہ اپر چترال کی انجمن ترقی کھوار کے کئی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں کھوار ادب کی خدمت میں جان و مال سے حاضر رہتے ہیں۔۔وہ اہل قلم کابڑااحترام کرتے ہیں۔۔درانی صاحب بڑے ہردل عزیز شخصیت ہیں۔۔کھوار ادب کو ان کی شگفتہ مزاجی بھاگیا ہے تب کھوار ادب کو ان پہ ناز ہوگا۔۔ درانی کی یاری مثالی ہوتی ہے۔۔باوفاہیں۔۔مخلص اور ہمدرد ہیں وہ شعرا اور اہل قلم کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہیں اور اس نبولا میں ایک چمکتا تارہ ہیں۔۔درانی چاند ہیں گھنگور گھٹاٶں میں اچانک نظر آنے والی چاندنی۔۔۔۔ان کی شاعری سیکیا کیا مثالیں دی جاٸیں۔۔۔۔فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔مسیحابتی گئے مہ دردان لوڑے۔۔۔۔۔۔تو عشقو طبیب نست یوران لوڑے۔۔۔
ترجمہ۔۔۔ میرے لیے مسیحا بن کے آہ میرے دردوں کا مداوا بن۔۔۔۔تم طبیب عشق ہو ذرا نبض تو دیکھ۔۔۔۔
لعل ہسے ریم وا کا نیکی تن۔۔۔دوردانہ دوغور موت دونان لوڑے۔۔۔ترجمہ۔۔۔وہ چمکتا موتی کی مانند ہے ہر جزو بدن بے مثال حسین۔۔۔در داندان کا نظارہ اور ناخن کی خوبصورتی گویا کہ موتیوں کا مالا۔۔۔۔۔درانی صاحب کے ہر ہر مصرع باکمال ہوتے ہیں۔۔۔عمر مبارک ساٹھ سال سے ذرا اوپر مگر شخصیت پہ جوانوں کو رشک آجاۓ۔۔۔۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



