چترال (نما یندہ چترال میل) جامعہ چترال میں منعقدہ پروگرام کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے یو نیورسٹی انتظامیہ نے اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتہ ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیریراِزم اتھارٹی کی طرف سے جامعہ چترال میں سہ روزہ ٹریننگ ورکشاپ، ایک روزہ سیمینار اور ایک روزہ اختتامی پروگرام کا انعقاد کرایا گیا تھا۔ مذکورہ پروگرامات کا انعقاد حکومت کی پالیسی اور ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کی نگرانی میں صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کرایا جاتا ہے۔ ان تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کا مقصد تعلیمی اداروں کے اندر انتہا پسندی کے جذبات کو کم کرنا اور برداشت و تحمل کے جذبات کو پروان چڑھانا ہے۔ اِن پروگرامات میں تربیتی ورکشاپ برائے اساتذہ و طلبہ، سیمینار اور ثقافتی نوعیت کے ایونٹس شامل ہیں۔
اس سلسلے میں جامعہ چترال میں ورکشاپ اور سیمینار چار دنوں سے جاری تھے۔ پروگرامات کے چوتھے روز سیمینار میں محترم کمشنر ملاکنڈ صاحب مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر تھے۔ پروگرامات کے آخری روز مختلف سیگمنٹس کے علاوہ ملی نغمہ اور ثقافتی موسیقی کے صرف دو ہی آئٹم پیش ہوئے تھے۔ اب انہی آئٹم کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا میں یونیورسٹی کی ساکھ اور انتظامیہ و اساتذہ کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے یونیورسٹی میں جاری تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو چترال کی مقامی روایات اور اقدار کا بہتر انداز میں علم ہے، اور جامعہ میں علاقائی روایات اور اقدار سمیت دین اسلام کی تعلیمات کو بہترین انداز میں طلبہ کو پڑھایا اور سکھایا جاتا پے۔ مذکورہ آئٹم سے اگر کوئی شرعی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار مجروح ہوئے بھی ہوں تو یونیورسٹی انتظامیہ اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ مستقبل میں ایسے پروگرامات کے انعقاد میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


