چترال (نما یندہ چترال میل) گزشتہ دن یونیورسٹی آف چترال میں منعقد ہونے والی مخلوط محفل موسیقی پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چترال سے قومی اسمبلی کے رکن اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالاکبر چترالی اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے گورنر خیبر پختونخوا سے اس شرمناک واقعے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک مشترکہ اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف چترال میں مخلوط مجلس مو سیقی قابل مذمت ہی نہیں ناقابل برداشت بھی ہے اور آئندہ ایسے بے ہودہ، غیر اسلامی اور چترالی ثقافت کے خلاف کوئی بھی پروگرام نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ چترالی ثقافت اسلامی ثقافت ہے اور مخلوط مجالس اور اس میں خواتین کے سامنے ڈانس اور طالبات سے تالیان بجانا اسلامی ثقافت کے خلاف ہے اور ایسے مخلوط مجالس ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے جا رہے ہیں جسے ہم کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت یونیورسٹی آف چترال میں بے حیائی پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کرے، بصورت دیگر ہم خود ایسے بے حیائی کے پروگراموں کے خلاف کارروائی کریں گے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


