ریشن کے بعد گرم چشمہ روڈ کے دریا برد ہونے کا این ایچ اے والے انتظار کررہے ہیں، سا بق وی سی ناظم قیمت شاہ

Print Friendly, PDF & Email

گرم چشمہ (نمائندہ) چترال میل) گرم چشمہ وادی کو باقی ملک سے ملانے والے دو پل ایک اوچو کے مقام پر اور دوسرا دروشپ کے مقام پر بری طرح خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اگر چند دنوں کے اندر ان دونوں پلوں کی مرمت نہیں کی گئی تو گرم چشمہ کا رابطہ باقی ملک سے کٹ جائے گا۔ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے سابق وی سی ناظم قیمت شاہ کا کہنا تھا کہ ہم باربار سی ڈی ایم کے پلیٹ فارم اور دوسرے ذرائع سے یہ بات این ایچ اے کے حکام بالا تک پہنچاچکے ہیں کہ یہ دونوں پل اب قابل استعمال نہیں رہے۔ اگر جلد ان کی مرمت کا کام شروع نہیں ہوسکا تو یہ کسی بھی وقت بڑے المیے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مگر ہماری بات پر این ایچ اے والے کان دھرنے کو تیار نہیں۔ ہم مجبورا میڈیا کے ذریعے یہ بات حکام بالا تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں کہ خدارا جلد سے جلد ان دونوں پلوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔ گزشتہ ایک مہینے سے اشیائے خوردونوش سپلائی کرنے والے ٹرک اوچو پل کراس نہیں کرسکتے۔ اس لئے گرم چشمہ بازار میں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وادی گرم چشمہ ضلع چترال کو آمدنی دینے والا واحد علاقہ ہے مگرعلاقے کے ساتھ سلوک ہمیشہ سے سوتیلوں والا رہا ہے۔ 2015 کے سیلاب میں آدھے سے زیادہ گرم چشمہ روڈ دریا برد ہوچکا تھا روڈ کی بحالی دو ماہ کے دوران علاقے کے عوام نے زیادہ تر اپنی مدد آپ کے تحت کیا۔ حکومتی اور سیاسی نمائندوں نے وعدے وعید تو بہت کئے مگر روڈ بنانے میں دلچسپی گزشتہ سات سالوں میں کسی کی نہیں رہی۔ روڈ کی عارضی بحالی میں حکومت اور انتظامیہ نے پل کے نام پر مردان نالے کے اوپر ایک ٹوٹا پھوٹا تختہ لگایا تھا کہ ہم ایک مہینے میں پل تعمیر کریں گے جب تک آپ لوگ عارضی طور پر اس تختے کا استعمال کیا کریں مگر سات سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اور کروڑوں روپے کے فنڈز کے استعمال کے بعد بھی وہ ٹوٹا پھوٹا تختہ ابھی تک گرم چشمہ کو ملک سے ملانے کا واحد ذریعہ بنا ہوا۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ تختہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات کئی دفعہ سی اینڈ ڈبلیو اور گزشتہ ایک سال سے این ایچ اے کی نوٹس میں لایا جاچکا ہے مگر کوئی بھی سننے کو تیار نہیں۔ دروشپ پل جہاں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اس کے ساتھ اس سال اوچو گول نالے پر بنے ہوئے پل کے شہتیربھی مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں صرف چار بولٹ اب بھی گاڑیوں کے گزرنے کا سبب ہیں۔ پل کی تعمیر اگر کچھ دنوں کے اندر شروع نہیں کیا گیا تو یہ کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ اوچوگول پل کی انتہائی خستہ حالت کے باوجود وہاں پر اب تک این ایچ اے کی طرف کسی بھی نوٹس کے آویزان نہ ہونے اور این ایچ اے کے کسی نمائندے کی غیر موجودگی اس بات کو ثابت کررہی ہے کہ این ایچ اے کے حوالے ہونے سے علاقے کے عوام کسی بہتری کی امید بالکل نہ رکھیں۔ حالانکہ گرم چشمہ روڈ این ایچ اے کے حوالے ہونے کے بعد علاقے کے عوام نے یہ امیدیں لگائی تھیں کہ اب گرم چشمہ روڈ پر کام ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا۔ مگر رپورٹ کے ساتھ موجود تصویریں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ گرم چشمہ روڈ اب علاقے کے عوام کے لئے مزید امتحان کا سبب بننے والا ہے۔علاقے کے عوام نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ یہ دونوں پل کسی انسانی المیے کا سبب بننے سے پہلے ان کی مرمت اور تعمیر نو کا بندوبست کیا جائے۔

smart

smart

smart