دادبیداد۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی۔۔۔۔سپیکر کی بڑی پیش رفت
سپیکر کی بڑی پیش رفت
سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کا مشاورتی اجلاس طلب کرنے کے لئے خط لکھ کر باضابطہ دعوت نامہ جاری کیاہے۔پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کو میٹنگ میں آنے کی سہولت دینے کے لئے زیرحراست اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کردئیے ہیں۔اگر چہ سپیکر نے اس اجلاس کے آئینی اصلاحات کے لئے مشاورتی اجلاس کانام دیا ہے تاہم عملی طورپر ہم اس کو وسیع ترقومی مکالمہ کی طرف پیش رفت بھی کہہ سکتے ہیں۔آئینی اصلاحات کے پیکیج میں اہم قومی امور کااحاطہ ہوگا اس میں نیب قوانین اور انتخابی قوانین پربھی مشاورت ہوگی۔گذشتہ ڈھائی سالوں سے ملکی سیاست میں یہ دوسری بڑی مشاورت ہے پہلی مشاورت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کاقانون پاس کرنے کے لئے ہوئی تھی اور ظاہر ہے کامیاب بھی ہوگئی تھی اس کے نتیجے میں آئینی ترمیم منظور ہوئی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع مل گئی۔زیر نظر مشاورتی اجلاس کے ایجنڈے پر سردست دوقوانین کا ذکر آیا ہے دونوں قوانین پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو جائز تحفظات ہیں مگر یہ تحفظات لچک دار ہیں۔کوئی سیاسی جماعت حزب اختلاف میں ہوتو قوانین میں تبدیلی کی بات کرتی ہے مگر اقتدار میں آنے کے بعد تبدیلی کی حمایت نہیں کرتی مثلاًنیب کے قوانین میں کچھ ایسے ہیں جو 1991میں مسلم لیگ نے پیپلز پارٹی کے خلاف بنائے تھے۔کچھ قوانین وہ ہیں جن کو10سال بعد2001ء میں سابق صدر پرویز مشرف نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کو گھیرنے کے لئے وضع کئے ان قوانین کی مدد سے بادشاہ کی سیاسی جماعت بن گئی جس کو ہم خیالوں کی جماعت کانام دیا گیا پھر قائداعظم مسلم لیگ کے نام سے مشہور ہوئی۔نیب کے دونوں قوانین کا مجموعہ احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے سے زیادہ مخالفین کو رگڑا دینے کے کام آتا رہا ہے اس لئے جو بھی حزب اختلاف میں جاتا ہے وہ پھنس جاتا ہے پھنسنے کے بعد ان قوانین میں تبدیلی کا بیانیہ الاپتا ہے مگر اگلے انتخابات میں اگر حکومت مل جائے تو مخالفین کے سروں پرننگی تلوار لٹکانے کے لئے ان قوانین کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اس طرح بلی چوہے کا کھیل جاری رہتا ہے۔انتخابی اصلاحات کا معاملہ بھی کم وبیش ایسا ہی ہے ہر حکومت قوانین کی مدد سے مخالفین کودبانے پر زور دیتی ہے اور ہروقت کی حزب اختلاف اپنے آپ کو قوانین کے یکطرفہ شکنجے سے چھڑانا چاہتی ہے۔دنیا کے120ملکوں میں جمہوری طریقے سے انتخابات ہوتے ہیں ان میں برطانیہ جیسی قدیم جمہوریت بھی ہے بھارت جیسا ڈیڑ ھ ارب آبادی والی بڑی جمہوریت بھی ہے،افغانستان کی طرح جنگ زدہ،خلفشار وانتشار کا شکار ملک بھی ہے کسی بھی ملک میں انتخابات کے لئے نگران حکومت نہیں بنتی برسراقتدار حکومت انتخابات کراتی ہے۔بھارت اور افغانستان میں ووٹوں کی گنتی پولنگ سٹیشن پر نہیں ہوتی۔بیلٹ باکس کو الیکشن کمیشن کے مرکزی کنٹرول روم میں پہنچایا جاتا ہے جہاں ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے یہ بڑے اعتماد،اعتبار اور بھروسے کاکام ہے۔ہماری سیاسی قیادت نے کھبی اس اعتماد اور بھروسے کا تجربہ ہی نہیں کیا۔ہمارے ہاں سیاسی عدم بلوغت کا یہ حال ہے کہ2018کے الیکشن میں نگران حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہم انتظامی افیسروں کو نہیں مانتے،پولیس کو نہیں مانتے پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات کی جائے۔مطالبہ مان لیا گیا فوج کی براہ راست نگرانی میں انتخابات ہوئے پھر بھی ناکام ہونے والوں نے اپنی شکست تسلیم نہیں کی چنانچہ ضمنی انتخابات میں فوج نے ڈیوٹی نہیں دی ڈسکہ سیالکوٹ میں 10اپریل کو این اے75کا ضمنی الیکشن ہورہا ہے حزب اختلاف نے پھر درخواست کی ہے کہ فوج بلائی جائے لوگ کہتے ہیں سیاست میں برداشت کا فقدان ہے حقیقت میں اعتماد اور بھروسے کا فقدان ہے نفسیاتی مسئلہ یہ ہے کہ کسی کی بھی نیت ٹھیک نہیں ہر چور اپنے مخالف کو چور سمجھتا ہے،ہرجھوٹا اپنے مخالف کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے یہ شکر کامقام ہے کہ سپیکر اسد قیصر نے پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کا مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے اس اجلاس کے بعد اگر چیئرمین سینیٹ بھی اس طرح کا اجلاس بلائے،صدر مملکت بھی کسی بہانے سے سیاستدانوں کو مل بیٹھنے کا موقع دیدیے تو برف پگھل جائیگی۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



