داد بیداد ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔۔نوادرات اور مخطو طات

Print Friendly, PDF & Email

داد بیداد ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔۔۔نوادرات اور مخطو طات
نوادرات اور مخطو طات
پریس کلب میں نو ادرات اور عجا ئبات کا ذکر آیا تو دوستوں نے کہا پرا نی کہا نیاں چھوڑدو نیب اور سیا ستدا نوں کی آنکھ مچو لی کا حا ل سنا ؤ ہم نے عرض کیا کہ یہ چو ہے بلی کا کھیل ہے اس میں نئی بات کوئی نہیں جس طرح کتا آدمی کو کاٹ لے تو خبر نہیں بنتی اس طرح نیب اور سیا ستدان کی لڑا ئی بھی آج کل خبر کی تعریف یعنی ڈیفی نی شن پر پوری نہیں اتر تی روز کا واقعہ خبر نہیں بنتا فیض کے مصرعے میں تصرف کرنے کی اجا زت ہو تو عرض ہو گی ”اور بھی دکھ ہیں زما نے میں سیا ست کے سوا“ اس سیا ست نے ہمیں اپنے سما ج کے اہم مو ضو عات پر سوچنے کی فر صت نہیں دی ان میں اہم مو ضوع نوا درات مخطو طات اور عجا ئبات کا مو ضوع بھی ہے یہ ہمارے پر کھوں کا ورثہ ہے ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن سیا ست کی دھول میں آنکھوں سے او جھل ہے یہ 1995ء کا قصہ ہے ایک عالمی تنظیم نے گاوں گاوں جا کر عوام کے اجتما عات منعقد کر کے ان کی فوری ضروریات اور تر جیحات معلوم کرنے کا منصو بہ بنا یا مشیروں کی ٹیم مقرر کی اس ٹیم نے ہمارے صوبے کے 200دیہات کا دورہ کر کے تر جیحا ت معلوم کیں ایک سکور کارڈ دیا گیا تھا اس کی رو سے جس چیز کا ذکر مشاورتی مجلس میں سب سے زیادہ آئے وہ پہلی تر جیح ہو تی تھی 200میں سے 199دیہات میں سڑ ک یا بجلی یا پینے کا صاف پا نی پہلی تر جیح ٹھہرا صرف ایک گاوں ایسا تھا جس میں 4گھنٹے کی مشاورت میں 39لو گوں نے اپنی رائے دی 23مسائل کا ذکر ہوا کسی مسئلے کا ذکر 19بار زیر بحث لا یا گیا جو مسئلہ 75بار زیر بحث آیا اس کو پہلی تر جیح قرار دیا گیا وہ مسئلہ تھا ”ثقا فتی ورثے کا تحفظ“ دیہاتی عوام نے اس کو قدیم دستکاری، قدیم طرز تعمیر، قدیم شاعری، قدیم ظروف سازی وغیرہ کے نا موں سے یا د کیا، جب 23اقسام کے نا موں کو یکجا کیا گیا تو وہ سب ثقا فتی ورثے کے تحفظ میں سما گئے 25سال پہلے قدیم ثقا فت، نوادرات اور مخطو طات کی فکر کرنے والوں کا تنا سب 200میں سے ایک تھا یعنی ایک فیصد بھی نہیں ہو ا مزید 25سال گزر نے کے بعد ہمارے معا شرے میں ثقافتی اقدار کے تحفظ کی بات کرنے والے اور بھی کم ہو گئے ہیں آج اگر 100دیہات میں مشاورتی اجلا س بلا کر سکور کارڈ پر لو گوں کی تر جیحا ت معلوم کی جائیں تو سڑک، بجلی اور صاف پا نی کو بھی لوگ بھول جائینگے آٹا، چینی، دال اور سبزی کو پہلی تر جیح قرار دینگے یعنی ثقا فتی ورثے کا تحفظ کسی کی تر جیح نہیں رہے گا 1970کے عشرے میں ہمارے دیہات میں فار سی اور عربی کے 200سال پرانے، 300سال پرانے اور 400سال پرانے مخطو طات وافر مقدار میں دستیا ب تھے پتھر مٹی اور لکڑی کے بنے ہوئے قدیمی بر تن ملتے تھے، پیتل کے پرانے جگ اور لوٹے دیکھنے میں آتے تھے لکڑی، چمڑے اور پیتل کے بنے ہوئے اوزار مل جا تے تھے آج نہیں ملتے گھروں میں خواتین کے پا س قیمتی پتھر وں کے نگینے ہوتے تھے، چاندی اور پیتل کے زیورات ہوتے تھے قیمتی پتھر وں کی ما لا ئیں ہوتی تھیں آج ان میں سے کوئی چیز ہمیں نہیں ملتی 50سالوں میں ہمارے گھروں سے نوادرات، مخطوطات اور عجا ئبات کی ساری دولت کدھر گئی؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے افغان مہا جرین کے ساتھ نوادرات کے تاجر آگئے تھے ان تا جروں نے گاوں بھر کے گھر گھر سے نوادرات اور مخطوطات کو ڈھونڈا، کوڑیوں کے مول خریدا پھر انہیں تہران، کا بل اور دوشنبہ کے عجا ئب خا نوں میں پہنچا دیا کچھ چیزوں نے ما سکو اور استنبول تک سفر کیا علا مہ اقبال نے سچ کہا ؎
وہ علم کے مو تی، کتا بیں اپنے آبا کی
دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا
مُلا ہیچ اٹھارویں صدی کا قادر الکلام شاعر گذرا ہے ان کا گاوں اوناچ چترال سے واخا ن پا میر جا نے والے راستے پر ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں برو غیل کے قریب واقع ہے بہت مشکل پہاڑی پگڈنڈی اس گاوں تک جا تی ہے ایک افغان مہا جر نے ملا ہیچ کے کتب خا نے سے اتنی کتا بیں اٹھا ئیں کہ ان کو دو مزدور لینے پڑ گئے ان کتا بوں میں ملّا ہیچ کا دیوان بھی تھا ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی دیگر کتا بو ں کی نقول بھی تھیں ملا ہیچ کا پڑ پوتا کراچی میں نو کری کرتا تھا دوسال بعد گاوں آکر پڑدادا کے صندوق کو دیکھا تو حیراں رہ گیا سوات، اپر دیر اور چترال میں بعض لو گوں نے اپنے شوق سے نوادرات کو جمع کیا ہے جیندرئی اپر دیر کے ملک تاج محمد، دروش چترال کے قا در نواز خان مر حوم کے ذخیرہ نوادرات کی شہرت ہے اپر چترال میں شندور کے قریب ہر چین کے مقام پر امیر اللہ خان یفتا لی کے ذخیرہ نوادرات کو ایک عالمی تنظیم نے ہیری ٹیچ میوزیم کی صورت میں سیا حوں کے لئے کھول دیا ہے ملا کنڈ ڈویژن کے 18دیہات میں باذوق اور شو قین شہریوں کے پاس نوادرات اور مخطو طات کے ایسے ذخیرے مو جو د ہیں ان کی قدر کرنے والا کوئی نہیں حکومت کے محکموں میں سیا حت اور آثار قدیمہ کے دو محکمے ایسے ہیں جو دفتروں سے با ہر نکل کر نوا درات اورمخطوطات کی تلا ش کر سکتے ہیں افغا ن مہا جرین کی طرح محنت نہ کریں پھر تی نہ دکھا ئیں تب بھی نوا درات اور مخطو طات کا بچا کھچا حصہ جمع کر کے کسی عجا ئب گھر کی زینت بنا سکتے ہیں۔