معاونِ خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وزیرزادہ کا اپر چترال کا مختصر دورہ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپر چترال (نمائندہ چترال میل)معاونِ خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وزیر زادہ آج مختصر دورے پر بونی پہنچے اور موجودہ صورت حال کا مختصر جائزہ لیا اس سے پہلے آپ مژگول ملکھو سے ہوتے ہوئے قرنطینہ مرکز خاندان بونی کا دورے کرکے حالات سے اگاہی حاصل کی اور قرنطینہ مرکز میں سہولیات کا جائزہ لیا۔ بونی میں پارٹی کارکنوں کی موجودگی میں ان سے مختصر ملاقات کر کے ان سے اس سلسلے ان کا رائے جاننے کی کوشش کی گئی کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اپر چترال میں قرنطینہ مرکز اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات سے آپ کتنے مطمین ہیں تو آپ کا کہنا تھا۔ اگر چہ قرنطینہ مرکز میں موجود چند افراد سہولیات کے بارے تحفظات کا اظہار کیا تا ہم میں بذاتِ خود اپر چترال کی انتظامیہ کے انتظامات سے مطمین ہوا کہ انہوں نے دستیاب وسائل کی بنیاد پر جو کچھ سہولیات مرکز میں دئیے ہیں وہ تسلی بخش ہیں۔ موجودہ حالات میں اس سے بہتر سہولت دینے کی تواقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ تواقع سے زیادہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپر چترال پہنچ رہے ہیں۔ اور انتظامیہ حفظِ ما تقدم کے طور پر انہیں مرکز میں رکھی رہی ہے۔اللہ کے کرم سے ان میں صحت کا کوئی مسلہ نہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں انتظامیہ سے تعاون کرنے چاہیے۔ انتظامیہ کوئی شوق سے انہیں مرکز میں نہیں رکھے ہیں یہ مجبوری ہے۔اس مجبوری کو سب سمجھنا چاہیے۔معاونِ خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ۰۰۲ ممالک اس مہلک وبا سے متاثر ہوچکے ہیں۔۔ ان میں بہت سے ملک ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ لیکن اللہ کا خاص کرم ہے کہ ان ممالک کے نسبت ہمارے ملک میں اتہائی کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وائریس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوئی ہے۔ اگر علاج ہوتا تو امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک اس پر کنٹرول کر لیتے وہاں سب کچھ دستیا ب ہیں اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وباء کا واحد حل اختیاط ہی ہے اور اختیاط سے اس کا علاج ممکن ہے۔لہذا عوام کو چاہیے کہ علاج اور الات پر بھروسہ کرنے کے بجائے حکومت کے وضع کردہ اختیاطی تدابیر اپنائے۔ اور دسروں کو بھی اختیاطی تدابیر اپنانے کی تلقین کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپر چترال کے عوام نتہائی باشعور اور فہراست والے ہیں۔ اور تعاون کرنے والے لوگ ہیں۔ آپ حکومت کی طرف سے وضع کردہ اختیاطی تدابیر پر بھر پور عمل کریں اور نقل وحمل محدود کریں بیغر کسی شدید ضرورت کے گھروں سے نہ نکلنے تاکہ اس کرونا وائریس پر با آسانی قابو پایا جاسکے۔ معاونِ خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا تمام ضلعی ہسپتالوں کے لیے حفاظتی الات اور ضروریات کے سامان مہایا کرچکی ہے انشاء اللہ اپر چترال تحصیل ہسپتال میں آج کل الات اور ضروری حفاظتی کٹس وغیرہ پہنچ جائینگے۔
معاونِ خصوصی اپر چترال اور لوئیر چترال انتظامیہ کے طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں تسلی بخش ہیں اور وقت کے ساتھ اس میں مزید بہتری لائی جائیگی اُ پ فرنٹ لائن پر ڈیوٹی سرانجام دینے والے ڈاکٹرز،نرسزز، پولیس فورس،لیویز وغیرہ کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے ان کے کردار کو قابل ِ تعریف قرار دی۔