داد بیداد۔۔بیقراری ہے۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Print Friendly, PDF & Email

مر زا غا لب کی غزل کا شعر وطن عزیز پاکستان کے ایوان سیا ست پر صا دق آتا ہے پھر کچھ اس دل کو بیقراری سینہ جو پائے زحم کاری ہے ہمارے آئین میں دانستہ یا غلطی سے لکھا ہوا ہے کہ ہر 5سال بعد پار لیما نی انتخا بات ہونگے گو یا حکومت 5سال پورے کرے گی لیکن جو پارٹیاں حزب اختلاف میں ہوتی ہیں وہ اس آئینی مدت کو دل سے تسلیم نہیں کرتیں انتخا بات کا ایک سال بمشکل پورا نہیں ہو تاہے کہ حزب اختلاف کی طرف سے اسمبلیوں کو توڑنے، حکومت کو گھر بھیجنے، قومی حکومت بنا نے، وسط مدتی انتخا بات کرانے یا اسمبلی کے اندر سے ”مائنس ون“فارمو لے کے تحت نئی حکومت اور نیا قائد ایوان لانے کے مطا لبے شروع ہوتے ہیں وجہ یہ ہے کہ حزب اختلاف 5سال انتظار نہیں کر سکتی چا ہے آئین میں لکھا ہوا کیو نہ ہواسلام اباد سے ایوانِ سیاست میں پھر بیقراری ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے صحا فیوں نے اپنے اپنے ذرائع سے بے یقینی اور شکوک وشبہات والی چٹ پٹی خبروں کو تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے یہ خبریں بے وقعت نہیں ہوتیں ہوائیں آتی ہیں تو درختوں کے پتے ہلتے ہیں ہواوں کے بغیر کوئی پتا نہیں ہلتا آپ 24گھنٹے ٹیلی وژن کی خبریں، تبصرے اور تجزیے سن لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایوان اقتدار میں زلزلے آنے والا ہے سینئر تجزیہ کار داڑھی اور مونچھوں پر ہاتھ پھر تے ہوئے جو کچھ کہتے ہیں بے سبب نہیں کہتے جب کوئی حکومت جانے والی ہو تی ہے تو سب سے پہلے چوہدری نثار یا شیخ رشید حکومت کی ڈوبتی کشتی سے چھلانگ لگا دیتے ہیں میں شیخ رشید کو سُن رہا ہوں وہ کہتے ہیں کہ میں نے قائد ایوان کو سب کچھ بتا دیا ہے کا بینہ کے اجلاسوں میں بھی کھل کر اپنی بات کہہ دی ہے ماننا یا نہ ماننا اُن کا کا م ہے میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے مو صوف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مو قع آیا تو میں استغفٰی دینے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کروں گا یہ تین جملے ہیں تینوں جملوں میں ما یو سی ہے بے یقینی ہے مگر ایسا کیوں ہے؟ انتخا بات کو ابھی ڈیڑھ سال ہوئے ہیں حکومت کے ساڑھے تین سال باقی ہیں معیشت کی کمزوری اور مہنگا ئی پا کستانی قوم کی پرانی بیماریاں ہیں یہ کورونا وائرس ہے جو ہر حکومت کو لگتا ہے کوئی حکومت جانبر ہو تی ہے کوئی حکومت کورونا کی مو ت مر جاتی ہے عمران خان جب تک سیا ست میں نہیں آ یا ہمارا قو می ہیرو تھا قو می اثا ثہ تھا کہا جاتا ہے کہ جس دولت کو قومی اثا ثہ کہتے ہیں اُس کو دشمن ہم سے چھین لیتا ہے ڈاکٹر اے کیو خان کا معا ملہ قومی اثا ثہ والا تھا دشمن نے اس کو اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیا عمران خان کے ساتھ ایسا معا ملہ نہیں ہوا تاہم اس سے کچھ کم معا ملہ بھی نہیں ہونے والا ہے آپ اندازہ لگائیں قو می ہیرو کو حکومت میں آئے ڈیڑھ سال ہوا ہے ایک خلقت منہ اور قلم پھاڑ کر اس کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کوئی انصاف کی دُہائی دے رہا ہے کوئی مہنگائی اور بے روز گاری کا رونا رو رہا ہے کسی کو اتحا دیوں والا خارش لگا ہوا ہے کسی کو پارٹی کے باغیوں والا وائرس تنگ کر رہا ہے ہر طرف خارش اور کھجلی ہے طرح مصرعہ یہ ہے کہ ”پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہے“ بھئی بیقراری کیوں ہے انتظار کرو 5سال پورے ہونے دو میرے دوست محمد اجمل خان ملک کے سینئر قانون دان ہیں فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے میں انہوں نے قانون کی اعلیٰ ڈگری حا صل کی انہیں اس بات پر فخر ہے کہ 1970ء کے پہلے آزادانہ، منصفانہ، جاگیردارانہ اور ”جانبدارانہ“ الیکشن میں انہوں نے بڑی پار ٹیوں کے اُمید واروں کے مقا بلے میں انہوں نے الیکشن لڑا ان کی نپی تلی رائے یہ ہے کہ روز روز کی چِق چق سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کی مدت 2سال کرنے کے لئے اس اتفاق رائے کا مظا ہرہ کرو جس اتفاق رائے کا مظا ہرہ کر کے حزب اقتدار اور حزب اختلاف آرمی چیف کی مد ت ملا زمت میں 5سال کا ریکارڈ اضا فہ کیا اگر یہ ہو سکتا ہے تو وہ بھی ہو سکتا ہے مگر اس مسئلے پر قوم دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہے ایک گروہ کا خیال ہے کہ حکومت اگر تمہیں پسند نہیں تو اس کو خواہ مخواہ شہید ہو کر اگلے الیکشن میں ہمدردی کا ووٹ لینے کا مو قع نہ دو 5سال پورے کرنے دو 5سال بعد قوم اس کو مسترد کرے گی ق لیگ نے 5سال پورے کئے آج مخلوط حکومت کے جہاز کی سٹپنی بنی ہوئی ہے ن لیگ نے 5سال پورے کئے آج اس کی قیادت جیل، ہسپتال، عدالت اور لندن کے درمیاں دوڑ لگا رہی ہے گویا ”ادھر ڈوبے ادھر نکلے“کا سماں بند ھا ہوا ہے زرداری کی حکومت نے 5سال پورے کئے آج ”پھر تے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ کپتان کو 5سال پورے کرنے دیں پھر دیکھیں اس کا کیا انجام ہو تا ہے دوسرا گروہ کہتا ہے ہمیں صبر کا یا را نہیں ہم اس بات کے قائل نہیں کہ ”ٹھہررے دل جمال روئے زیبا ہم بھی دیکھینگے“ ایسے بے صبرے سیا ہ ست وا لوں کے لئے علا مہ اقبال کا صائب مشورہ یہ ہے کہ
نا لہ ہے بُلبُل شوریدہ تِرا خام ابھی اپنے سینے میں اِسے، اور ذرا تھا م ابھی
مگر بیقراری ہے کہ اُٹھنے کا نام نہیں لیتی۔