چترال (نمائندہ چترال میل) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے بدھ کے روز راغ لشٹ کے مقام پر المناک ٹریفک حادثے میں آٹھ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور درجن سے ذیادہ افراد کے شدید زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ چترال پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حادثے کے فوراًبعد امدادی سرگرمیاں شروع کرکے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانے اور جان بحق ہونے والوں کی میتیں ان کے گھروں کو روانہ کرنے اور تدفین کا انتظام کرنے پر الخدمت فاونڈیشن کے ا نتظامیہ کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ مولانا چترالی نے الخدمت فاونڈیشن کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال کے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کی جانفشانی سے ڈیوٹی سرانجام دینے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ جن زخمیوں کو مزید علاج معالجہ کے لئے پشاور لے جانے کی ضرورت ہوگی، ان کے لئے ایمبولنس گاڑی کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ ایم این اے مولانا عبدالاکبرچترالی نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ حادثے میں زخمیوں کی فوری مالی امداد کی جائے اور جان بحق ہونے والوں کے ورثاء کو بھی معاوضے ادا کئے جائیں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


