اسلام آباد(نمائندہ چترال میل)سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں مولانا عبد الاکبر چترالی MNA کے پیش کردہ ترمیمی بل پر بحث ہوئی ترمیمی بل ۹۱۰۲ ء نیشنل ڈیٹا بیس ایند رجسٹریشن اتھارٹی میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی شناختی کارڈز کے اجراء اور بلاک شدہ شناختی کارڈز کی کلئیرنس کیلئے درج ذیل ایک یا ایک سے زائد دستاویزات پیش کرنے پر بلاک شدہ شناختی کارڈ اوپن ہو گا.1 تیس30 سال قبل رجسٹرڈ شدہ اراضی ریکارڈ.2 تیس سال قبل جاری شدہ ڈومیسائل.3 محکمہ مال سے تصدیق شدہ شجرہ نسب.4 پچیس(25) سال قبل خونی رشتہ دار کا ملازمت سرٹیفیکیٹ.5 تعلیمی سرٹیفیکیٹ.6 پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور اسلحہ لائسنس ان تجاویز سے تمام ممبران سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ اور نادارا کے ذمہ داران کے اتفاق کے باوجود اس ترمیمی بل کو ایکٹ درجہ نہ دینے پر مولانا عبد الاکبر چترالی جو کہ اس بل کے محرک تھے نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا قومی اسمبلی کی حدود میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذکورہ ترمیمی بل عوام کی سہولت اور مشکلات سے نکالنے کیلئے پیش کیا گیا تھالیکن ایسالگ رہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینا نہیں چاہتی اسلئے اس ترمیمی بل کو مسترد کیا گیا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


