چترال (محکم الدین) چترال کے پسماندہ ترین علاقہ بروغل کے نمایندگان اور عمائدین نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور وزیرتعلیم خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے۔ کہ ان کے بچوں کو تعلیمی محرومیت سے بچانے کیلئے کمیونٹی بیسڈ سکولوں کیلئے فوری طور پر اساتذے فراہم کئے جائیں۔ چترال پریس کلب میں پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویلج ناظم بروغل امین جان تاجک،کنونیئر سی بی ایس سکولز محمد عزیز گرل بروغل، محمد سعید لشکر گاز،غلام نبی چلمر آباد، منصور خان، علی جان گرم چشمہاور قدم علی کشمانجا نے کہا۔ کہ بروغل وادی میں تعلیمی پسمانادگی دور کرنے کیلئے مقامی کمیونٹی کی طرف سے مفت زمین فراہم کرنے پر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان نے پانچ پرائمری سکولوں کیلئے بلڈنگ تعمیر کی۔ اور تین سال تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے بعد ایک این جی او سنٹرل ایشیاء انسٹیٹیوٹ کے حوالے کیا۔ جو کہ اب تک اس علاقے میں تعلیم کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ جن کے بھر پور تعاون کی بدولت بروغل کے بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہیں۔ لیکن اب منسٹری آف انٹریر کی طرف سے این او سی نہ ملنے کی بنا پر یہ ادارہ اپنی تمام تعلیمی سرگرمیاں یہاں سے ختم کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں طلباء کا مستقبل ایک مرتبہ پھر تاریک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ 80کلومیٹر ایریا کی 2200 آبادی کیلئے سرکاری طور پر صرف ایک پرائمری سکول ہے۔ جو کہ نہ صرف ناکافی ہے۔ بلکہ اس پرائمری سرکاری سکول تک پہنچنے کیلئے طلبہ کو روزانہ چھ گھنٹے پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔جس کی کمی پوری کرنے کیلئے کمیونٹی بیسڈ سکولوں نے بچوں کی تعلیم میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا۔ کہ حکومت اگر مذکورہ این جی او کی تعلیمی خدمات برو غل میں ختم کرنا چاہتی ہے۔ تو متبادل کے طور پر ایمرجنسی بنیادوں پر پانچ پرائمری اور ایک ہائی سکول کیلئے اساتذہ فراہم کرے۔ تاکہ بچوں کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔ انہوں نے کہا۔ کہ سکولوں کی بہترین بلڈنگ اور فرنیچر سمیت جملہ سہولیات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ صرف اساتذہ کے تعین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ کہ مارچ کے آخر تک سنٹرل ایشیاء انسٹیٹیوٹ اپنی سرگرمیاں ختم کر رہاہے۔ جس کے بعد اساتذہ نہ ہونے کی بنا پر طلبہ کا تعلیم متاثر ہو گا۔ اس لئے حکومت سے مطالبہ ہے۔ کہ وہ فوری اقدامات اٹھا کر ان سکولوں کیلئے اساتذہ متعین کرے۔ بصورت دیگر حکومت کے اقدام کو بروغل کے بچوں کو دانستہ طور پر تعلیم سے محروم رکھنے کی سازش قراردیا جائے گا۔ انہوں نے آغا خان ایجوکیشن سے بھی اپیل کی۔ کہ وہ بھی علاقے کے بچوں کو تعلیمی محرومیت سے بچانے کیلئے ان سکولوں کو اپنی تحویل میں لے۔ تاکہ بچوں کی تعلیم بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا۔ کہ موجودہ حالات میں یارخون لشٹ اور بروغل کے چھ سو طلبہ کی تعلیم کو شدید خطرہ درپیش ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


