بخاری شریف کی حدیث ہے حضرت محمدﷺ نے فر مایا ”اے لوگو! دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو نہ کرو۔اللہ سے عافیت مانگا کرو۔لیکن اگر مقابلے کی نوبت آئے تو پھر جم جاؤ۔اور جان جاؤ کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“بخاری شریف
محسن انسانیت ﷺ نے جہان امن وسکوں اور عافیت کادرس دیاوہاں پر جنگ،قتال اور جہاد کی بھی تشریح فرمائی۔۔خود جہاد کیا دشمن سے مقابلے کا مرحلہ،موقع اور وقت کی وضاحت فرمائی۔میدان جنگ میں جنگ کے آداب بتائے۔۔دشمنوں سے مقابلہ اور پھر سلوک سمجھائے۔فخر موجودات ﷺ کی جانب سے کبھی بھی دہشت اور ظلم کا شائبہ تک نہ ہوا۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں کم و بیش ۹۲ غزوات میں خودشرکت فرمائی۔زخمی ہوئے۔مشقت اُٹھائے۔عین لڑائی کی شدت میں آپ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا گیا کہ۔۔”اے اللہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے“۔آپ ﷺ کا مشن حق،انصاف،امن،خوشی اور اللہ واحد و لا شریک پر ایمان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پاسداری تھی۔مسلمانوں نے یہ دعوت لے کے اُٹھے اور انسانیت کو فلاح کی راہ میں ڈالنے کی جدو جہد شروع کی۔جس نے ان کو اس مشن سے روکا تو آخری مرحلے میں مجبورا ًقتال آزمائی گئی۔جنگ کبھی سکون کی ضمانت نہیں۔مگر قرآن کی رو سے فساد قتل سے بھی خطر ناک ہے۔۔ اللہ کی زمین میں فساد سے زیادہ خوفناک گناہ کوئی نہیں۔۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ حق کی جنگ کے سوا کسی دوسری لڑائی کاانجام بھیانک ہی رہا ہے ہاں جس نے حق کی جنگ لڑی رب نے بر ملااس کی مدد کی۔ آج کی بدلتی دنیا میں مسلمان بد قسمتی سے اغیار کے نزیک اپنا دفاع بھی کریں تو اس کوتسلیم کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا۔اس کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے اور اس کی حق کی جد وجہد کو دہشت کانام دیا جاتا ہے۔اغیار خود اپنی دہشت گردی کو یا تو بھول جاتے ہیں یا امن کی کوشش قرار دیتے ہیں۔پاک سر زمین اللہ کے نام سے حاصل کی گئی اور وہ وعدہ بھولایا نہیں جا سکے گا کہ ہم اللہ کی زمین میں اللہ کے نظام کے مطابق زندگی گذاریں گے۔ہمیں ہوس ملک گیری نہیں۔ہمیں زیر دست پر زبر دست بننے کا شوق بھی نہیں۔ہمیں دنیا میں چودھرا ہٹ دیکھانے کی بھی آرزو نہیں۔ہم نے اٹم بم اپنے دفاغ کے لئے بنایا۔ورنہ دنیا کو بار بار تجربہ رہا ہے کہ ہم اپنے ہمسائے کی جارحیت کا شکار رہے ہیں۔اس لئے ہم نے دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے اور ہمیشہ دینگے۔۔ہم دشت گردی کا شکار رہے ہیں اور ہم نے کبھی اس کا الزام ہمسایوں کو نہیں دیا حالانکہ ہمسائے کے ملوث ہونے کے ثبوت بر ملا ہیں۔البتہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا قصور ہے حالانکہ یہ ہمارا فرض ہے۔بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی بھی ہماری طرف سے نہیں بلکہ ان کی طرف سے ہے۔۔ان کے ہاں ایک دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔تو اس کا الزام بر ملاہم پہ تھوپا گیا۔۔ہمیں سبق سیکھانے کا کہا گیا۔ہمارے صبر کا امتحان بار بار لیا گیا۔۔ہم نے اپنے دفاغ کا حق محفوظ رکھا۔۔اب ہمارے شاہینوں نے اپنے دفاغ کی روایت بر قرار رکھے۔۔ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں کیونکہ اللہ کے شیروں کو روباہی نہیں آتی۔۔ان کا مطلوب و مقصود شہادت ہے بلکہ ہر مسلمان کی آرزو شہادت ہے۔ فخر موجوداتﷺ جب جہاد کا اعلان فرماتے تو صحابہؓ شوق شہادت میں جشن مناتے۔لیکن بہت غور کرنے کی بات ہے کہ مسلمان اپنی ہر کامیابی کواللہ کی مدد تصور کرتا ہے۔وہ اللہ کے ساتھ براہ راست تعلق میں ہوتا ہے۔سردار دو جہان ﷺ کی موجود گی میں بھی کئی غزوات میں مسلمانوں کو یہ درس دی گئی کہ اپنی طاقت سے اٹھلانا نہیں۔جنگ حنین اس کی زندہ مثال ہے۔کسی مسلمان کے دل میں یہ خیال گذرا ہو گا۔کہ ہمارے پاس بڑی فوج ہے۔اللہ کی مدد اس وقت پہنچتی ہے جب ہم سب کچھ ان سے ہونے پہ یقین کرتے ہیں۔۔پاکستان کے شاہین فضا ء میں اڑان بھرے تو ان کے ساتھ اللہ کی مدد تھی کیونکہ وہ حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔۔ اللہ نے ان کو سرخرو کیا۔حسن صدیقی کے چہرے پر طمانیت کہتی ہے کہ میرے ساتھ اللہ کی مدد تھی۔یہ ہمارا ایمان ہے۔اب ہندوستانی پائلٹ کے ساتھ سلوک،اس کا انٹرویو مسلمانوں کا سر فخر سے بلندکرنے کے لئے کافی ہے۔ہم دشمن کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہم جرات و کردار،شرافت اور غیرت کے پتلے ہوتے ہیں۔ جو چت گرے اس کے سینے سے اس کو قتل کئے بے غیر اٹھتے ہیں۔ہم کسی کو آوٹ کریں تو پھر اس کو بلا کر کریز پہ کھڑا کرتے ہیں پھر اس کو آوٹ کرنے کا مزہ لیتے ہیں۔ہم جارحیت نہیں چاہتے۔جنگ مسلے کا کوئی حل نہیں اور آج کی دنیا میں مہذب قومیں لڑا نہیں کرتیں آج اقتصادی اور ٹیکنا لوجی کی جنگ کا دور ہے۔خون خرابے کا دور گذر گیا۔البتہ اپنے دفاغ کاحق ہر ایک کو ہے۔بے لاوجہ چھیڑنا بزدلی ہے۔ بھارت کو خود احساس ہو گیا ہے کہ جنگ اس کے مفاد میں نہیں۔اس مرحلے پر پوری قو م سے اپیل ہے کہ اپنی پاک فوج اور اپنی پاک سر زمین کی سلامتی کے لیے دعا کریں۔سوشل میڈیا پر گالی گلوچ،مذاق،للکار، پکار غیرت مند قوم کے ساتھ اچھا نہیں لگتا۔ہمارا ایمان اللہ پر ہے اس کی مدد کے شامل حال ہونے پر یقین ہے۔ہم جہاد اور شہادت کی آرزو لئے زندہ ہیں۔میدان جنگ کوئی کھیل کا میدان نہیں۔اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں کہ اللہ ہمیں ہر آفت سے اور دشمن کی شر سے بچائے۔ہمار ی فوج ایک لڑاکو اور جہادی فوج ہے۔ان کے ساتھ ٹکرانا حماقت ہے۔اس مرحلے پر قومی اتحاد وزیر اعظم اور ذمہ دار نمائندوں کے بیانات ایک ذمہ دار قوم کے بیانات ہیں۔دنیا مان گئی ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔لیکن اپنے دفاغ کا حق ہماری مجبوری ہے۔۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


