چترال(نمائندہ چترال میل) یونیورسٹی آف چترال نے مختلف مضامین میں پرائیویٹ ایم اے کے نتائج کا اعلان کردیاہے۔ کنٹرولرامتحانات ڈاکٹر عتیق احمد طارق کے دفترسے جاری اعلامیے کے مطابق جامعہ چترال نے ایم اے عربی، اکنامکس، انگلش، ہسٹری، اسلامیات، انٹر نیشنل ریلیشنز، پولیٹیکل سائنس اور اردو کے سال اول کے امتحانات کا انعقاد کیاتھا جوکہ چار سے بارہ ستمبر2018تک جاری رہے تھے۔ جس میں مجموعی طورپر 417طلبہ نے حصہ لیاجن میں سے 238کامیاب قرار پائے یوں کامیابی کا تناسب 57 فیصد رہا۔اس سے پہلے جمعہ 28دسمبر کو جامعہ کے شعبہء امتحانات میں ایک سادہ اور پروقار تقریب میں نتائج کا اعلان کیاگیا جس کے مہمان خصوصی یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری تھے۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر بخاری نے انتہائی کم وسائل کے ساتھ قلیل مدت میں نتائج مرتب کرنے پر شعبہء امتحانات کے عملے کی کارکردگی کو سراہا۔تقریب میں کنٹرولرامتحانات کے علاوہ، گورنمنٹ کالج بونی کے پرنسپل مراد علی، جامعہ چترال کے ڈائیریکٹرایکیڈمکس ڈاکٹر ضیاء الحق اور سیکریسی سیکشن کے انچارج محمداسلم عباس بھی موجود تھے۔مذکورہ نتائج جامعہ کے چترال کے ویب سائٹ https://uoch.edu.pk/index.php/examinations/results/ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


