چترال (محکم الدین) کالاش تہوار چوموس کے آخری شب آٹھ جوڑوں نے پسند کی شادی کرکے نئی زندگی کا آغاز کر دیا ہے۔ اپنے لئے جیون ساتھی چننے والے نوجوانوں میں سے تین کا تعلق بمبوریت سے اور پانچ کا تعلق رمبور ویلی سے ہے۔ جنہوں نے نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ ان جوڑوں نے چوموس تہوار کے دوران باہمی محبت کی پینگیں بڑھائیں۔ اور جیون ساتھی بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے رسم کے مطابق تہوار کے آخری شب زندگی کا سفر شروع کر دیا۔ کالاش رسوم کے مطابق اکثر لڑکیاں اپنی مرضی کے ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور اعتماد کی فضا پیدا ہونے کے بعد لڑکے کے ساتھ تہوار کے دنوں بھاگ جاتی ہیں۔ جسے مقامی زبان میں اڑاشنگ کہا جاتا ہے۔ تاہم کئی لڑکیاں والدین کی مرضی پر بھی شادی کرتی ہیں۔ حالیہ چوموس تہوار میں گذشتہ کی نسبت زیادہ جوڑوں نے شادی رچائی ہے۔ اور یہ اس تہوار کا سب سے آخری رسم ہے۔ شادی کرنے والوں میں ناصرالدین کالاش و شاہ فیروز اور قیوم کالاش بمبوریت جبکہ رمبور میں صدام، سوروم خان، راشد، بشیر کالاش اور ایک اور نوجوان سمیت پانچ دُلہے شامل ہیں۔ کالاش اقلیتی رکن اسمبلی وزیر زادہ اور کالاش قبیلے کے بزرگوں اور لوگوں نے نوجوان جوڑوں کو مبارکباد دی ہے۔ اور اُن کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


