چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) چترال سے 43کلومیٹر دور گرم چشمہ کے نواحی گاؤں ایژ کے مقام پر ایک 34سالہ جوان نے دریا میں چھلانگ لگاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ مقامی پولیس کے مطابق عیسیٰ محمد ولد امیر ہزار نے یونیورسٹی سے ایم۔ اے کی ڈگری لے رکھی تھی اور ابھی تک کوئی ملازمت نہیں لے سکے تھے لیکن گزشتہ سال سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے۔ مقامی پولیس نے ضابطہ فوجداری کے دفعہ 174کے تحت خودکشی کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی انتظار ہے۔ رواں ماہ کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا کیس ہے جبکہ پہلے کیس میں اویر کے پختوری گاؤں میں ایک چودہ سالہ طالب علم نے بھی مبینہ طورپر خود کشی کی تھی۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


