پشاور (نمائندہ چترال میل) چترال بازار ٹریفک پلان ناقابل عمل ہے جاری شدہ ٹریفک پلان سے پندہ ہزار تاجر متاثر ہوچکے ہیں اگر بروقت اس پر نظر ثانی نہ کی گئی تو پندرہ ہزار تاجر ہی نہیں بلکہ دوکانوں میں کام کرنے والے مزید ہزاروں افراد بے روز گار ہونگے جبکہ ضلع چترال میں بے روزگاری پہلے سے موجود ہے۔ ڈپٹی کمیشنر چترال اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں تاکہ تاجر طبقہ فاقہ کشی کی شکار نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما سابق ممبر قو می اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے ایک اخباری میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل دن رات ٹریفک کیلئے نہ کھولنے اور مخصوص اوقات متعین کرنے کی وجہ سے کاروباری طبقہ پریشان ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کی گئی ہے کہ تمام بازاروں جن میں اتالیق بازار، شاہی بازار تا کڑوپ رشت ٹریفک یکطرفہ کرنے سے کاروباری طبقہ مزید مشکلات سے دو چار ہو چکا ہے۔ لہذا ضلعی انتظامیہ اس مسئلے کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور بلا تا خیر تا جر براداری کو ریلیف پہنچایئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں اسٹیک ہولڈر کا روباری طبقے کو سرے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ جو کہ نیک شگون نہیں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


