سی ڈی ایل ڈی چترال میں کسی بھی متنازعہ ادارے کی شمولیت سے اس پروگرام کی افادیت بری طرح متاثر ہوگی۔جمعیت علماء اسلام ضلع چترال

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نما یندہ چترال میل) جمعیت علماء اسلام ضلع چترال کے ضلعی شوریٰ کا اجلاس ضلعی امیر قاری عبدالرحمن قریشی کی صدارت میں منعقد ہوا جسمیں مختلف امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں منظور شدہ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ ضلع چترال میں صوبائی حکومت کی طرف سے یورپی یونین کے مالی معاونت سے شروع کردہ سی ڈی ایل ڈی CDLD پروگرام نہایت خوش اسلوبی سے کام کررہی ہے جس سے یہاں کے غریب عوام کو بلا تفریق فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اب یہ معلوم ہورہا ہے کہ عوامی فائدے کے اس بڑے منصوبے کی سوشل موبلائزیشن کے لئے AKRSPجیسے متنازعہ ادارہ سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے جوکہ نہایت نامناسب عمل ہے اور دانستہ طور پر عوام الناس کو اسے بڑے اوراہم منصوبے سے دور رکھنے کی کوشش ہے۔ سی ڈی ایل ڈی میں کسی بھی متنازعہ ادارے کی شمولیت سے اس پروگرام کی افادیت بری طرح متاثر ہوگی اور اس کا نقصان یہاں کے غریب عوام کو ہوگاکیونکہ چترال کی اکثریتی آبادی کسی بھی متنازعہ ادارے کے سرگرمیوں میں شامل ہونے کو یکسر مسترد کرتے ہیں، نیز متنازعہ اداروں کی شمولیت سے مقامی سطح پر بھی تنازعات پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ سی ڈی ایل ڈی کے سوشل موبلائزیشن میں کسی بھی متنازعہ ادارے کو ہر گز شامل نہ کیا جائے تاکہ اس سے ضلع چترال کے عوام بلاتفریق استفادہ حاصل کر سکیں۔ جمعیت کے ضلعی شوریٰ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جمعیت کے زیر اہتمام ضلع کے مختلف علاقوں میں غلبہ اسلام کانفرنس منعقد کرائے جائینگے اور اسمیں کارکنان بھرپور انداز میں شرکت کرینگے۔