14 اپریل میں بریپ کے مقام پر مبینہ طور پر قتل ہونے والے جوان اسلم بیگ کی قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم میں عمل میں لانے کے ساتھ ان کے جسم سے پندرہ مختلف حصوں سے نمونے پشاور اور لاہور لیبارٹریوں کو ارسال

Print Friendly, PDF & Email

چترال(نمائندہ چترال میل) اس سال 14 اپریل میں بریپ کے مقام پر مبینہ طور پر قتل ہونے والے جوان اسلم بیگ کی قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم میں عمل میں لانے کے ساتھ ان کے جسم سے پندرہ مختلف حصوں سے نمونے پشاور اور لاہور کے فارنزک لیبارٹریوں کو ارسا ل کردئیے گئے۔ چترال پولیس کے ترجمان انسپکٹر محسن الملک نے میڈیا کو بتایاکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال کے حکم پر سول جج بونی اعجاز یونس کی موجودگی میں محکمہ صحت کے تین ڈاکٹروں ڈاکٹر رشید ظفر، ڈاکٹر فرمان اور ڈاکٹر سعد پر مشتمل ٹیم نے مقامی پولیس کے ساتھ قبرکشائی کے بعد پوسٹ مارٹم کیا۔ وقوعہ کے بعد ان کی موت کو ہارٹ اٹیک کا نتیجہ قرار دے کر دفنا دیا گیا تھا جبکہ 10اکتوبر کو اسلم بیگ کے والد پردوم بیگ نے ان دونوں پر اس وقت مستوج تھانے میں ایف آئی آر درج کرا ئی جب عدت مکمل ہونے کے فوراً بعد ان کی سابق بہو زکیہ نے اپنے گاؤں ژوپو یارخون سے تعلق رکھنے والے ایک جوان سید شہاب کے ساتھ شادی کی۔ چترال پولیس نے زکیہ اور سید شہاب کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کے بعد سید شہاب کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جبکہ زکیہ نے عدالت سے قبل آز گرفتاری ضمانت لے رکھی ہے۔ سید شہاب نے پولیس کے سامنے ابتدائی تفتیش کے دوران اعتراف جرم کرلیا تھا جبکہ عدالت کے سامنے اعترام جرم سے انکارکیا جس کے بعد انہیں جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا گیا ہے۔