ضلعی سیرت کونسل چترال کی جانب سے تحفظ ختم نبوت اور سیرت رسول ؐ کے عنوان سے دوسری عظیم الشان محفل کا انعقاد۔

Print Friendly, PDF & Email

چترال (ارشاد اللہ شادؔ سے) معلم انسانیت سیدنا عربی ؐ کے اسوہ حسنہ کی اہمیت کے پیش نظر ضلعی سیرت کونسل چترال آپ ؐ کی حیات طیبہ و تعلیمات کے فروغ و اشاعت کیلئے مختلف پروگرامات کرتی رہتی ہے۔ حسب سابق امسال بھی ضلعی سیرت کونسل چترال کا یہ دوسرا پروگرام ہے جو سیرت رسول ؐ اور تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے عظیم الشان محفل چترال آڑیان کے جامع مسجد عثمان غنی ؓ میں یکم دسمبر بروز جمعہ بعد از نماز عصر منعقد ہوا۔ جس میں چترال کے جید علماء کرام، ضلعی سیرت کونسل کے اراکین کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز بعد از نماز عصر منعقد ہوا۔ عصر سے لیکر مغرب تک حضور ؐ کی شان اقدس میں نعت خوانی کا اہتمام کیا گیا اور ضلعی سیرت کونسل کے رہنما مولانافدا احمد نے بھی سیرت رسول کے حوالے سے گفتگو کی۔ اور دوسری نشست بعد از نماز مغرب زیر صدارت صدر ضلعی سیرت کونسل چترال مولانا قاری عبد الحئی منعقد ہوا۔ سٹیج کی ذمہ داری ضلعی سیرت کونسل کے چیرمین حافظ نواز مدنی نے لی۔ محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہو ا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت ارشاد اللہ شاد ؔ نے حاصل کیا۔ اس کے بعد ایک بار پھر حضور ؐ کی شان میں نعت کلام پڑھا گیا۔ اس کے بعد ضلعی سیرت کونسل کے جنرل سیکرٹری، تحصیل خطیب چترال مولانا شوکت علی نے سیرت رسول اور معاشرتی زندگی کے انمول اصولوں کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ صرف محمد ؐ کی ذات ہی ہمارے لئے کامل نمونہ ہے۔ ہمارا یہ دعویٰ صرف عقیدت اور محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے او ر تاریخ کا گواہی بھی یہی ہے کہ ہر انسان کی کامیابی آپ ؐ کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا سیرت نبوی کی متعدد خصوصیات ہیں جن کے مطالعے سے نہ صرف یہ کہ تاریخی واقعات سے و اقفیت حاصل ہوتی ہے بلکہ روح و عقل کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ؐ کی حیات طیبہ میں پاکیزہ زندگی کے تمام پہلوؤں کی مثالیں اور نمونے موجود ہیں، امن و آشتی کی جھلکیاں ہوں تو صلح و مصالحت کی بھی، دفاعی حکمت عملی کی بھی، اور معتدل حالات میں پرسکون کیفیات کی بھی، اپنوں کے واسطے کی بھی، اور بے گانوں سے تعلقات کے بھی، اور معاشرت و معاملا ت کے بھی، اور ریاضت و عبادت کے بھی، گویا انسانی زندگی کے گوشوں پر محیط ایک ایسی کامل اور جامع حیات طیبہ ہے جو رہتی دنیا تک پوری انسانیت کیلئے رہبر و رہنما ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی آپ ؐ کی مکمل زندگی کا مطالعہ کرکے عمل پیرا ہو جائے تو بلا شبہ زندگی میں چار چاند لگ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے دنیا و آخرت میں قابل رشک بن سکتی ہے، اسلئے ہر حال میں رسول ؐ کی سیرت اور تعلیما ت کو اولیت کا درجہ سمجھ کر اس پر عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں رسول ؐ کی سیرت طیبہ کے حوالے سے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جناب نبی کریم ؐ نے قرآن و سنت کی رو سے نہ صرف عورتوں کے حقوق کا تعین کیا بلکہ آپؐ نے اور آپؐ کے اصحاب نے ان حقوق کی ادائیگی کے مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا، اور جناب رسول ؐ کا عورتوں کے ساتھ معاملہ کیسا تھا، عورتوں کی آزادی کے حوالے سے، پردے کے احکام کے حوالے سے، ان کے حقوق کے حوالے سے، ان کی رائے کی احترام کے حوالے سے مفصل گفت و شنید کی۔
اس کے بعد صدر محفل اور ضلعی سیرت کونسل چترال کے صدر مولانا قاری عبد الحئی نے سیرت نبوی ؐ زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط کیا۔ انہوں نے کہا حضور ؐ نے زندگی کے ہر شعبے ہر گوشے او ر ہر پہلو کے بارے میں مکمل رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ قوی ہدایات بھی ہیں اور پھر خود ان پر عمل کرکے دکھایا ہے۔ اس طرح ہمیں ہر گوشہ زندگی کے بارے میں واضح صاف افراط و تفریط سے پاک، معقول، روشن اور بہترین رستہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی سیرت پاک میں بنی نوح کے ہر طبقے اور ہر گروہ کیلئے ذاتی اور اجتماعی طور پر بھی واضح ہدایات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتباع نبوی ہی حب خداوندی کے حصول کی ضامن ہے۔ جو شخص آپ کی اتباع نہ کرے وہ کبھی خدا کا محبوب نہیں بن سکتا، نہ اس کے گناہ معاف ہوسکتے ہیں۔ قرآن و سنت میں نبی کریمؐ کی بعثت کو انسانیت کیلئے عظیم نعمت اور اہل ایمان کیلئے آپ کی اتباع کو شرط ایمان قرار دیا گیا ہے۔
چیرمین ضلعی سیرت کونسل چترال کے حافظ نواز مدنی نے کہا کہ ماہ ربیع الاول میں سیرت النبی کے پروگرامات پوری امت کا مستقل عمل ہے۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ اسوہ رسول کو اختیار کئے بغیر ہم ذلت و رسوائی سے نکل سکتے ہیں نہ اللہ کے انعامات کے مستحق پاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا صحابہ کرام نے سرور کونین ؐ کی مکمل اتباع اختیار کی تو پوری دنیا ان کے سامنے سرنگوں ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم عزت کا مقام حاصل کرسکتے ہیں اگر ہمارے عوام اور حکمران، علماء اور عامی سب سیرت رسول ؐ کے مطابق اپنے اخلاق، کردار، گفتار اور معاملات کو درست کرلیں، یہی ربیع الاول کا پیغام ہے اور یہی سیرت مطہرہ کی روح ہے۔
آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ محفل کا اختتام ہو گیا۔