(چترال میل رپورٹ)خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع کی مقامی حکومتوں کو کسی بھی امتیاز کے بغیر فنڈز جاری کئے جاتے ہیں اور مقامی حکومتیں جاری کردہ فنڈز کا بر وقت استعمال یقینی بنائیں۔ جن اضلاع نے حاصل کردہ فنڈز کا 60 فیصدخرچ کیا ہے انہیں فنڈز کی اگلی دو اقساط جاری کی جائینگی لہٰذا ایسے اضلاع جن کی مقامی حکومتوں نے مذکورہ ہدف پورا نہیں کیا ہے وہ فنڈ کے استعمال میں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز فنانس کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے 9 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ کے علاوہ سیکرٹری خزانہ شکیل قادر خان، ضلع ناظم شانگلہ، کمیشن کے ممبران و بلدیاتی ناظمین ایڈیشنل سیکرٹری فنانس سفیر اللہ، ڈپٹی سیکرٹری حمید الرحمان سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ خضر حیات اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مقامی حکومتوں کو فنڈز کی فراہمی، اضلاع کی نان سیلری بجٹ کے سلسلے میں متعدد معاملات، کمزور ٹی ایم ایز اور انکے محصولات کیلئے مناسب فارمولا طے کرنے سمیت کنٹونمنٹ بورڈز کو گرانٹس کی فراہمی اور دیگر امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیااور بعض فیصلے بھی کئے گئے۔ اجلاس میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تو ثیق بھی کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن اضلاع کی مقامی حکومتوں کو صوبائی حکومت نے جو فنڈ جاری کیا ہے اور اسکا 60 فیصد حصہ خرچ کیا گیا ہو تو ان اضلاع کو فنڈز کی مذید دو اقساط جاری کی جائیں گی جسکا مقصد جاری کردہ فنڈز کا بروقت اور مکمل استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ اس موقع پر اضلاع کو نا ن سیلری بجٹ کے زمرے میں جاری ہونے والے فنڈز کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اضلاع کیلئے ان رقوم کی تقسیم کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ بھی لیا جائیگا تا کہ اس سلسلے میں تمام اضلاع کو ان کا جائز اور پورا حق ملنا یقینی بنایا جاسکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے اور کمزور ٹی ایم ایز کو فنڈز کی تقسیم کار کا ازسر نو جائزہ لینے کیلئے ٹی ایم ایز کا اجلاس جلد طلب کیا جائیگا جس میں محکمہ خزانہ بھی اپنی مشاورت فراہم کریگا۔ اس موقع پر کمیشن کے چیرمین و صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت تمام اضلاع کی مقامی حکومتوں کو بلا کسی امتیاز ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے اور یہ کوشش کر رہی ہے کہ مقامی حکومتوں کو فنڈز کی فراہمی میں ان کاپورا پورا حصہ ملے تا ہم صوبائی حکومت سے جاری ہونے والے تمام فنڈز قوم کا پیسہ ہے اور مقامی حکومتیں ان فنڈز کا بروقت صحیح اور مکمل استعمال ہر حالت میں یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو اضلاع جتنا زیادہ فنڈ استعمال کریں گے اتنے ہی زیادہ ان کو مزید فنڈ ملے گا اور کسی بھی ضلع کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فنانس کسی بھی رکاوٹ کے بغیر فنڈز جاری کر رہا ہے اور اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے تا ہم فنڈز کے صحیح اور بروقت استعمال کو یقینی بنانے میں محکمہ ہذا اپنی ذمہ داری پوری کریگا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


