چترال(محکم الدین ) پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے 8نومبر کے دورۂ چترال کی وجہ سے ضلع چترال میں سہ روزہ پولیو مہم بُری طرح متاثر ہو گیا ہے۔پولیو مہم اس ماہ کی 8تا 10تاریخ تک چترال کے طول عرض میں جاری رہنا تھا جس کے لئے ضلع بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین الرٹ تھے اور پولیو ٹیموں کا شدت سے انتظار کر رہے تھے کیونکہ ہر ماں باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اُس کا بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے تاکہ پولیو جیسے موذی مرض سے اُن کے پھول جیسے بچے محفوظ رہ سکیں۔عین وقت پرمحکمہ صحت چترال نے تحریک انصاف کے قائدین کے دورۂ چترال کے باعث اس اہم مہم کو موخر کر دیا ہے جس کی وجہ سے چترال شہر اور دور دراز وادیوں میں بسنے والے عوام کے اندر سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ ای پی آئی کو آرڈنیٹر ڈاکٹر ارشاد احمد نے میڈیاکو بتا یا۔ کہ چونکہ وزیر اعلی خیبر پخونخوا اور قائد تحریک ا نصاف عمران خان کے دورۂ چترال کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر ہیں۔ اس لئے پولیو ڈیوٹی کیلئے سکیورٹی کے جوان ناکافی ہیں۔ جس کی وجہ سے پولیو مہم کو موخر کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ پولیو مہم 10نومبر سے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


