ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں گزشتہ چارمہینوں سے آئی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نمائندہ چترال میل ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں گزشتہ چارمہینوں سے آئی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جوکہ اس سال کے اوائل میں ڈاکٹر محبوب حسین کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوگئی تھی۔ تقریبا چھ لاکھ آبادی والے ضلعے کے دور درا ز علاقوں کی آنکھوں کے عارضے میں مبتلا مریض علاقے کے واحد ہسپتال سے مایوس لوٹ جانے پر مجبور ہیں لیکن ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے ابھی تک اس اہم ترین نوعیت کے ڈیپارٹمنٹ کی اسپیشلسٹ کی تعیناتی کے لئے کوئی قدم نہیں لیا ہے۔ ہسپتال میں آنے والے متعدد مریضوں نے مقامی صحافیوں کو بتایاکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرزہسپتال میں آئی اسپیشلسٹ کا موجود نہ ہونا اور اس اسامی کا چار مہینوں سے خالی رہنا قابل مذمت ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محبوب حسین کی ریٹائر منٹ کے بعد ڈاکٹر فیض الملک آئی اوپی ڈی کے ساتھ ایم ایل سی کیسوں کو بھی دیکھتے تھے مگر گزشتہ دنوں انکی پروموشن کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی تبادلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پی ایم او کی اسامیاں بھی خالی ہیں۔ جس کی بنا پر آئی سپشلسٹ کے دفتر پر مکمل طور پر تالہ لگ گیا ہے۔ ذرائع نے مذید بتایاہے کہ ہسپتال میں کارڈیالوجی، آرتھوپیڈک کے دو، دو اور سرجری، میڈیکل، نیورولوجی، انستھیزیا، گائناکالوجی اور چیسٹ کے ایک ایک اسامی خالی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو پشاور کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے جوکہ ہرمریض کے بس کی بات نہیں ہے۔ عوامی حلقوں نے اس صورت حال کو ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی قرار دی ہے۔یادرہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال 200بیڈوں پر مشتمل ضلع کے چھ لاکھ آبادی کی واحد ہسپتال ہے۔جس کو کیٹگری بی کا درجہ دیا گیا ہے۔ جہاں ضلع بھر سے مریض علاج کیلئے آتے ہیں۔ مریضوں کا کہناہے کہ ہسپتال میں پانی اور بجلی و دیگر سہولیات کا فقدام کوئی انہونی بات نہیں مگر ضلع کی واحد ہسپتال میں بھی آئی سپشلسٹ کا نہ ہونا قابل مذمت ہے۔ چترال کے مختلف مکاتب فکر نے انصاف کے دعویداروں سے ہسپتال کی حالت زار پر رحم کھانے اورآئی سپشلسٹ کی فوری تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری ہیلتھ سے داد رسی کی اپیل کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔