(چترال میل رپورٹ)گورنر خیبر پختونخوا/چانسلر نے فوری طور پر خیبر پختونخوا کی مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی عرصہ 3سال کے لئے تعیناتیوں کے احکامات جاری کئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق لنکو پنگ یونیورسٹی سویڈن کے ڈاکٹر قمر الوہاب کی بحیثیت وائس چانسلر شہدائے آرمی پبلک سکول یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی،نوشہرہ اینٹما لوجی ڈیپارٹمنٹ زرعی یونیورسٹی پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر امتیاز علی خان کی بحیثیت وائس چانسلر صوابی یونیورسٹی،سوات یونیورسٹی کے ایکٹنگ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بخت جہاں کی بحیثیت وائس چانسلر خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک،انڈسٹریل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ،انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین کی بحیثیت وائس چانسلر انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی پشاور،ائیرڈ(ARID) زرعی یونیورسٹی راوالپنڈی کے شعبہ سائنس کے ڈین ڈاکٹر ایس ایم ثقلین نقوی کی باچا خان یونیورسٹی چارسدہ اور وائس چانسلر قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان کی بحیثیت وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی تعیناتی کی گئی ہے۔ان امور کا اعلان محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومت خیبر پختونخواکی جانب سے محکمہ اطلاعات کو بھیجے گئے چھ مختلف اعلامیوں میں کیا گیا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


