پشاور (نمائندہ چترال میل) کٹ گاڑیوں کے نام پر ضلع چترال میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کاروائی اپنی غلطی چھپانے کیلئے کی جارہی ہے کیا جہاں کٹ گاڑیا ں بنائی جاتی ہیں وہ پاکستانی حدود سے باہر ہے؟کیا کٹ گاڑیوں کے بنانے اور فروخت کرنے والوں کیخلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے؟بنانے والوں سے بھتہ لیا جاتا ہے جبکہ زمین فروخت اپنے بچوں کو پالنے کیلئے ایک گاڑ ی رکھنے والوں کو بیجا اور ناجائز تنگ کیا جاتاہے۔تمام گاڑیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن ہو نی چا ہئے اور تمام رجسٹرڈ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر سالانہ جائز ٹیکس لگنا چاہئے تاکہ غریب لوگ اپنے بال بچوں کیلئے حلال کی روزی کما سکیں ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور سابقMNA مولانا عبد الاکبر چترالی نے چترال انتظامیہ کی جانب سے نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر اپنے رد عمل میں کیا ہے انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پکڑی گئی تمام گاڑیاں ان کے مالکان کے حوالہ کی جائیں اور اصل مجرموں کو پکڑ کر آئندہ کیلئے کٹ گاڑیوں کا راستہ روکا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کا م جرم کی جڑیں کاٹنا ہے نہ کہ شاخ تراشی کرنا عوام اس لئے اور قطعی بے قصور ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ کٹ گاڑی کی پہچان کیسے کی جاسکتی ہے؟
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


