چترال(نمائندہ چترال میل) انسانی حقوق کے علمبردار نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے ایک اخباری بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہی جامع مسجد واقعہ کے نتیجے میں گرفتار ملزمان کے خلاف دہشت گردی کے دفعات کو ختم کرکے اُنہیں جلد رہا کئے جائیں۔اُنہوں نے کہا کہ گرفتار ملزمان مذہبی جذبہ کے تحت اگر قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہیں تو یہ ایک فطری امر تھا۔یہ لوگ کسی قسم کے دہشت گرد کاروائیوں میں پہلے ملوث نہیں بلکہ پر امن شہری ہیں۔موجودہ حالات میں ان ملزمان کو دہشت گرد قرار دینا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔نیاز اے نیازی نے کہا کہ مذکورہ ملزمان کے خلاف تعزیرات پالستان کے تحت کاروائی کافی تھی۔ مگر مقامی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے اُن کے خلاف 7ATAکا دفعہ لگانا مناسب نہیں تھا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک قانونی مسلہ ہے اس کو سیاست بازی کی نذرکرکے گرفتار ملزمان کے لئے مزید مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا شفاف تحقیقات کرکے اصل حقیقت کو سامنے لایا جائے
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


